لاہور ( الفجرآن لائن)سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (کَیس) لاہور نے “جدید تنازعات میں پانی بطور ہتھیار: بین الاقوامی معاہدوں سے بحری گزرگاہوں تک” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ ایک خودمختار تھنک ٹینک کے طور پر، کَیس لاہور قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم اور ماہرین کے لیے علمی نشستیں منعقد کرتا ہے۔ اس تقریب میں اہلِ علم، دانشوروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ ایئر مارشل عرفان احمد، ڈائریکٹر نیشنل سیکیورٹی، کَیس لاہور نے افتتاحی کلمات ادا کیے۔
سید محمد مہر علی شاہ، پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس نے جنوبی ایشیا میں آبی نظم و نسق کو “ہائیڈرو اسٹریٹیجی” کے طور پر پیش کیا، جو بنیادی ڈھانچے، قانون اور سیاسی اشاروں کا امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۸ میں پیدا ہونے والے آبی تنازعے کے بعد سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم میں استحکام کا ذریعہ رہا ہے، جبکہ طاسِ سندھ پاکستان کے بندوں اور بیراجوں کے نظام پر انحصار کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ڈیٹا کنٹرول، بہاؤ کے ضابطے اور “آبی جبر” جیسے ابھرتے چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں آبی نظم و نسق کو دباؤ کے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پائیدار آبی نظم و نسق کے حصول کے لیے قانونی، تکنیکی اور سفارتی کوششوں کے ہم آہنگ ہونے، ذخیرہ آب کی بہتری اور شواہد پر مبنی پالیسیوں پر زور دیا۔
وائس ایڈمرل احمد سعید نے آبی گزرگاہوں کو اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر بیان کیا، جن میں بندرگاہیں، بحری راستے، اہم گزرگاہیں اور بحری قانون شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو این سی ایل او ایس ۱۹۸۲ آزادیِ نقل و حرکت اور ساحلی ریاستوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے بحرِ ہند میں پاکستان کی مؤثر پوزیشن کو نمایاں کیا، جہاں تجارت اور توانائی کی درآمدات کا تقریباً ۹۵ فیصد سمندری راستے سے ہوتا ہے، جو پاکستان کو عالمی بحری تجارت سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ۴۰ ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ بحری استعداد پر زور دیا اور پائیدار ترقی کے لیے مستقل سرمایہ کاری، نظم و نسق اور یکساں پالیسیوں کا مطالبہ کیا۔
احمر بلال صوفی، صدر ریسرچ سوسائیٹی فار انٹر نیشنل لأ (آر ایس آئی ایل)، نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی قانون امن کے دور، مسلح تصادم اور قبضے کی صورتحال میں مختلف انداز سے کام کرتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ کس طرح علمی اور ادارہ جاتی عمل آرٹیکل ۵۱ کے تحت حقِ دفاع جیسے اصولوں کی تشکیل کرتا ہے، جس میں قبل از وقت دفاع کی تفہیم بھی شامل ہے۔ یو این کنونشن برائے سمندری قانون (یو این سی ایل او ایس) ۱۹۸۲ کے تحت آزادیِ نقل و حرکت، ناکہ بندی اور تصادم سے ہونے والے نقصانات کی جواب دہی پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیش رفتوں اور آبی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “سندور ۲” تصادم کی ذہنیت کو برقرار رکھتا ہے، جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ)، صدر کَیس لاہور نے پانی کے بطور جیو پولیٹیکل ہتھیار استعمال کو نمایاں کیا۔ انہوں نے دریائے سندھ کی پاکستانی معیشت کے لیے اہمیت پر زور دیا اور بھارت کی جانب سے پانی کو ہلاکت آفریں ہتھیار کے طور پر استعمال پر تشویش کا اظہار کیا، جس کے سنگین نتائج بھارت کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ پاکستان کو قبول نہیں اور پاکستان اسے سختی سے مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور قانونی طور پر پابند ہے اور مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے فیصلے کا حوالہ دیا جو پاکستان کے موقف کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے یو این سی ایل او ایس کے تحت اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کیا کیونکہ اس کی سلامتی کو خطرہ تھا۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ اور آبنائے ہرمز کا ہتھیار کے طور پر استعمال خطے اور دنیا کے لیے سنگین معاشی مضمرات رکھتا ہے۔
تقریب کا اختتام ایک متحرک سوال و جواب کی نشست پر ہوا، جس میں نیویگیشن چارجز، ناکہ بندی کے اثرات اور بھارت کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ شرکا نے کَیس لاہور کی اس فکر انگیز اور بصیرت افروز نشست کے انعقاد کی کاوش کو سراہا۔
