ہیومن پلیسینٹا پراسیس کرکے بیرون ملک برآمد کرنے کا انکشاف، ایف آئی اے کے دو مقامات پر چھاپے
اسلام آباد(الفجرآن لائن ،محمد ثاقنب خان) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے دارالحکومت میں انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ اور بیرون ملک ترسیل میں ملوث ایک نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں تین چینی شہری اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں، جبکہ ان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاع ملنے پر رات گئے سیکٹر ایف-7 اسلام آباد میں واقع ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں انسانی اعضاء، بالخصوص ہیومن پلیسینٹا، کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے ایک مکمل پلانٹ قائم پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان مذکورہ مقام پر ہیومن پلیسینٹا کو پراسیس اور خشک (ڈرائے) کر کے مخصوص مصنوعات تیار کرتے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ تیار شدہ مصنوعات "شی پلیسینٹا” کے نام سے بیرون ملک، خصوصاً ویتنام، برآمد کی جاتی تھیں۔ کارروائی کے دوران موقع سے بڑی مقدار میں تیار شدہ مواد، خام مال اور پراسیسنگ میں استعمال ہونے والے مختلف آلات و مشینری قبضے میں لے لی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات اور شواہد کی بنیاد پر اسی نیٹ ورک سے منسلک ایک اور مقام کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سیکٹر ایف-7/ای-11 اسلام آباد میں واقع دوسرے مرکز پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
وہاں بھی اسی نوعیت کا ایک مکمل پراسیسنگ سینٹر فعال پایا گیا، جہاں مبینہ طور پر انسانی بافتوں کی پراسیسنگ کا عمل جاری تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مراکز سے برآمد ہونے والے شواہد کو تحویل میں لے کر فرانزک اور تکنیکی جانچ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر مقامی اور بین الاقوامی روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔ایف آئی اے نے کہا ہے کہ انسانی اعضاء اور انسانی بافتوں کی غیر قانونی خرید و فروخت یا پراسیسنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادارے کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ترجمان ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے
