راولاکوٹ دھرنے میں مبینہ شرکت، متعدد ملازمین معطل، تحقیقات شروع،حکومت کا زیرو ٹالرنس مؤقف، مزید کارروائیوں کا عندیہ,پونچھ اور سدھنوتی کی رپورٹس پر محکمانہ انکوائریاں تیز
مظفرآباد (الفجرآن لائن) حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ وابستگی اور حالیہ احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کے الزامات پر سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی انتظامی رپورٹس کی روشنی میں متعدد حاضر سروس ملازمین کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ مزید کارروائیوں کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق راولاکوٹ میں ہونے والے احتجاجی دھرنے میں مبینہ شرکت اور کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں سے وابستگی کے الزامات پر مختلف محکموں کے اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ پونچھ ڈویڑن میں محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے آٹھ سینئر مدرسین اور دو چوکیداروں کو معطل کر کے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کمشنر پونچھ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بعض حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر سدھنوتی کی رپورٹ میں بھی کالعدم تنظیم سے مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ملوٹ کے نائب قاصد وقاص گلزار کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1977 کے تحت محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ ناظم تعلیم کالجز مظفرآباد ڈویڑن راجہ محمد فیاض خان کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے رپورٹ 15 روز کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح ہجیرہ آپریشن ڈویژن کے میٹر ریڈر خواجہ ارشد کو بھی مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے دھرنے میں شرکت کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف اضلاع سے مزید معلومات، شواہد اور متعلقہ افراد کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر مزید سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا امکان موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ریٹائرڈ اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی و محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ بعض کیسز میں پنشن سے متعلق اقدامات بھی زیر غور ہیں۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و امان کے قیام اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں اور قانون شکنی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب متعلقہ افراد یا تنظیم کی جانب سے ان الزامات اور کارروائیوں پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
