لندن ( ویب ڈیسک) برطانیہ میں گرمی کی شدید لہر (ہیٹ ویو) کے باعث جون کا درجہ حرارت مسلسل دوسرے دن بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق کاؤنٹی سمرسیٹ کے علاقے یوولٹن میں درجہ حرارت 36.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ روز کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی ایک غیر معمولی موسمی نظام "اومیگا بلاک” کی وجہ سے ہے، جس نے گرم ہوا کو مغربی یورپ کے اوپر مقفل کر دیا ہے۔
شدید گرمی کی اس لہر نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جو کہ 1947 کے بعد سب سے گرم ترین انڈیکس ہے۔ سوئٹزرلینڈ اور اسپین میں بھی کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، جہاں رات کے وقت بھی درجہ حرارت کم نہیں ہو رہا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر برطانیہ اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث برطانیہ اور فرانس میں ہزاروں اسکولوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ انفراسٹرکچر پر بھی شدید دباؤ ہے۔ فرانس میں ندیوں کے پانی کو حد سے زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو بند یا محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ میں ریلوے ٹریکس کے پگھلنے کے خطرے کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے شدید موسمی حالات اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدت سے رونما ہو رہے ہیں۔
