اسلام آباد(الفجرآن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نا ہونے کے تنازع پر وزیر اعظم اور صدر کو سیکرٹریز کے ذریعے آج منگل کے لیے نوٹس جاری کر تے ہوئے جواب مانگ لیاہے۔جبکہ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ میں کہاہے کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ آپ کی کوئی دلچسپی نہیں؟
ایسے لگتا ہے وفاقی حکومت کو اس متعلق کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوااس طرح سمری کو رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا، پہلے تو 15 دن نہیں ہوئے تھے اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔
۔انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں۔صدر مملکت ا?صف علی زرداری کی جانب سے سمری منظوری نا ہونے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے گئے۔ عدالت نے وزارت قانون کو بھی کل کے لیے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اج۔منگل تک جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سمری کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے؟۔درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے زائد آصف چوہدری نے کیس کی پیروی کی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ آپ کی کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسے لگتا ہے وفاقی حکومت کو اس متعلق کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سمری کس اسٹیج پر ہے؟ آپ کو کچھ معلوم ہے؟ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی وہ بھی رک چکی ہے۔
ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس طرح سمری کو رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا، پہلے تو 15 دن نہیں ہوئے تھے اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔
وکیل زاہد آصف چوہدری نے دلائل دیے کہ آئین بڑا واضح ہے جب وقت گزر جائے تو کیا ہوگا، صدر اس طرح سمری کو رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔

