اسلام آباد/نیویارک (ویب ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کے روز آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک تجارتی مالبردار جہاز پر نا معلوم میزائل یا گولہ گرنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ عمان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ میں سیکیورٹی خدشات اور سپلائی کی ممکنہ معطلی کا خوف دوبارہ پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کے سودے 2.1 فیصد (1.52 ڈالر) اضافے کے ساتھ 75.26 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.3 فیصد (1.58 ڈالر) اضافے کے ساتھ 71.92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس حملے کے فوراً بعد امریکی گیسولین فیوچرز میں 5 فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کا نمایاں اچھال دیکھا گیا۔
اس سیکیورٹی مہم جوئی کے بعد اقوام متحدہ کی بحری ایجنسی نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی بحفاظت منتقلی اور انخلا کا پروگرام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ ایرانی حدود سے کی گئی، جبکہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مقررہ راستوں سے ہٹ کر سفر کرنے والے جہازوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحری تعطل برقرار رہا تو خلیجی ممالک کو تیل کی پیداوار کم کرنی پڑے گی، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
