شہدا کی اہمیت مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہے کیونکہ ہم نے بھی اپنے اقابرین اور کارکنوں کی قربانیاں دی، مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے والے اس مذموم پراپیگنڈے پر مجھ سمیت تمام شہدا اور عوام سے معافی مانگیں، جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام ووکلا کنونش سے خطاب
اسلام آباد(الفجرن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے ملک کے ساتھ وفاداری کو حلف اٹھایا ہے اور آئین اور قانون کے دائرے میں اپنے نظرئے اور موقف کے پرچار کا قانونی حق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے اپنے ہوس اقتدار میں اس ملک کی پارلیمنٹ سمیت جمہوریت کو کمزور کرکے اسٹیبلشمنٹ کو طاقتور بنایا ہے،انہوں نے کہاکہ شہدا کی اہمیت مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہے کیونکہ ہم نے بھی اپنے اقابرین اور کارکنوں کی قربانیاں دی ہیں،انہوں نے کہاکہ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے والے اس مذموم پراپیگنڈے پر مجھ سمیت تمام شہدا اور عوام سے معافی مانگیں۔
اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام ووکلا کنونش سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم اس ملک میں 60سالوں سے ایک فعال سیاست کر رہے ہیں۔ہم نے نتہا پسندی کی سیاست کبھی نہیں کی ہے۔ہم نے حق حکمرانی آئین اور قانون کی رو اور عوام کے تائید کے ساتھ مانگا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج ہماری سیاست،پارلیمنٹ،آئین اور قانون کو یرغمال بنا لیا گیا ہے اور ہمارے حکمران یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ جمہوری حکومت ہے لیکن انہی حکمرانوں اور جمہوریت کے علمبردار وں نے اپنے اقتدار کی خواہش کی وجہ سے عوام کو کمزور کیا پارلیمنٹ اور آئین سمیت جمہوریت کو کمزور کیا اور اسٹیبلشمنٹ کو مظبوط بنایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ کوئی خوشامد نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ایک لمبی جدوجہد کی ہے اور پی ڈی ایم کے اکابرین کے سامنے ایک سوال ہمیشہ رکھا کہ ہم نے مسلسل آمریتوں کے خلاف جنگ لڑی ہے اور اس پوری جدوجہد میں جمہوریت طاقتور بنی ہے یا آمرانہ قوتیں طاقتور بنی ہیں اور اگر جمہوریت کمزور ہوئی ہے کہ اس میں سیاستدانوں کی کوتاہی کا کتنا کردار ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پہلے بھی انتہاپسند نہیں تھے اور آج بھی نہیں ہے۔
لوگوں کو انتہا پسند،شدت پسند اور دہشت گرد بنانا امریکہ کی خواہش ہے اور ہماری ریاستیں ان کی اس خواہش کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور مذہب کے نام لیوا لوگوں کو اشتعال دلا کر اسے اسلحہ اٹھانے اور پہاڑ پر چڑ ھ کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ دنیا کو اسلام کے حوالے سے یہ تاثر دیا جائے کہ یہ اسلام ہے اور وہ اسلام سے متنفر ہوجائے اور مذہب کے نام پر ان شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مذہب آمن،انسانی حقوق اور جان و مال عزت و آبرو کی بات کرتا ہے اور دنیا بھر میں حقوق اسی لئے بنتے ہیں۔اگر قانون موثر ہے تو کوئی کسی کا حق نہیں مار سکتا ہے اور کوئی کسی کو ناروا قتل نہیں کرسکتا ہے اور کوئی کسی کو بری نظر سے نہیں دیکھ سکتا ہے اور ہم نے پاکستان میں یہی روش اختیار کی ہے اور آج پورے ملک میں تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس فعال اور متحرک ہیا ور تعلیم و قرآن و سنت کا ماحول ہے۔

