پاکستان کو فوری طور پر موسمیاتی موافق زراعت اپنانا ہوگی،ترجمان موسمیاتی پالیسی ماہرپانی کی قلت زرعی شعبے کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے جبکہ دستیاب آبی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں
اسلام آباد (الفجر آن لائن) موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث گندم اور چاول سمیت اہم زرعی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور موسمیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں۔
بلکہ پاکستان کی قومی غذائی سلامتی کا اہم چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق گرمی کی شدید لہریں، سیلاب اور خشک سالی زرعی
پیداوار اور آبی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر موسمیاتی موافق زراعت اپنانا ہوگی۔
جس میں موسمیاتی اثرات برداشت کرنے والی فصلوں کی نئی اقسام، جدید آبپاشی نظام، سائنسی تحقیق اور بہتر زرعی طریقہ کار شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں ہر اضافی اضافہ کسانوں، خوراک کی فراہمی اور ملکی معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے مطابق صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔
تحقیقی ماڈلز کے مطابق فیصل آباد، شیخوپورہ، حیدرآباد، بدین، بہاولپور، ملتان اور دیگر زرعی علاقوں میں گندم کی پیداوار میں 3 سے 16 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
جبکہ پوٹھوہار کے بارانی علاقوں، خصوصاً چکوال، میں یہ کمی تقریباً 16 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ چاول کی پیداوار بھی شدید خطرات سے دوچار ہے اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ملک کے بڑے چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں صدی کے اختتام تک پیداوار میں 12 سے 22 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی قلت زرعی شعبے کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے جبکہ دستیاب آبی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، خشک سالی برداشت کرنے والے بیجوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک بھی پاکستان کے زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شمار کرتے ہیں اور فصلوں، مویشیوں اور آبپاشی کے نظام کو لاحق خطرات سے خبردار کر چکے ہیں

