وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے خاتون افسر کے خلاف عہدہ گھٹانے کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(الفجرآن لائن)وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے ایک سرکاری یونیورسٹی میں پیش آنے والے ہراسیت کے کیس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے خاتون افسر کے خلاف عہدہ گھٹانے کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
کیس کی بنیاد سیلفی بنانے کی ضد، ویڈیو لیک کرنے اور جھوٹی شکایت کی دھمکیوں پر تھی۔یونیورسٹی کی ایک اعلی عہدے دار خاتون افسر شکایت کنندہ جو یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں، کے دفتر میں اچانک داخل ہوئیں اور ان کے ساتھ سیلفی بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ رجسٹرار نے بتایا کہ ایک اہم عہدے کی جاری بھرتی پر ان کا کوئی اختیار نہیں تو ملزمہ کا رویہ فورا بدل گیا۔الزام عائد کیا گیا کہ خاتون افسر نے دھمکی دی کہ اگر انہیں من پسند عہدہ نہ ملا تو وہ رجسٹرار کی ویڈیوز جاری کر دیں گی، ان کے خلاف جھوٹی ہراسیت کی شکایت درج کرا دیں گی اور اپنے صحافی شوہر کے ذریعے مبینہ بے ضابطگیاں میڈیا میں لے آئیں گی۔شکایت کنندہ نے احتیاطا ایک اہلکار کو کمرے میں موجود رکھا تھا، مگر ملزمہ بار بار اسے باہر بھیجنے پر اصرار کرتی رہیں۔ صورتحال کی سنگینی بھانپتے ہوئے رجسٹرار نے چپکے سے گفتگو ریکارڈ کر لی اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر کے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر چلے گئے۔ ملزمہ وہاں بھی ان کے پیچھے پہنچ گئیں۔
ریکارڈنگ سننے کے بعد ملزمہ نے اپنی غلطی تسلیم کی اور دو تحری معذرت نامے جمع کرائے۔یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے ملزمہ کو مجرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا سنائی جس میں عہدہ کم کرنا، تین سال کے لیے ترقی پر پابندی اور زندگی بھر کسی انتظامی عہدے پر تقرری سے محرومی شامل تھی۔ ملزمہ نے اس سزا کے خلاف وفاقی محتسب میں اپیل دائر کی۔اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے فورم نے واضح کیا کہ ہراسیت کا قانون صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں ہے بلکہ دھمکیاں دینا، دبا ڈالنا اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔فورم نے ریمارکس دیے کہ اگر شکایت کنندہ نے گفتگو ریکارڈ نہ کی ہوتی اور الٹا ملزمہ ان کے خلاف شکایت کر دیتیں تو غالب امکان تھا کہ سچ سامنے نہ آتا اور شکایت کنندہ کو ناحق سزا بھگتنی پڑتی۔تام فورم نے سزا میں ایک ترمیم بھی کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمہ کی معذرتوں کو کمیٹی نے نظرانداز کیا اور قانون میں تاحیات پابندی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ چنانچہ ترقی اور تقرری پر تاحیات پابندیاں ختم کر دی گئیں جبکہ عہدہ کم کر کے ڈپٹی رجسٹرار کرنے کی بنیادی سزا برقرار رکھی گئی

