صنعاء (ویب ڈیسک) غير ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف فوری اور مکمل بحری ناکہ بندی (ایمبارگو) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ اب سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ کی طرف جانے والے بحری جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس اہم ترین پیش رفت نے گزشتہ چار سالوں سے قائم نازک جنگ بندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور خطے میں ایک نئی اور شدید جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام "ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی” کی پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی حدود میں میزائل داغے تھے، جس کے بعد صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملہ کیا گیا۔ حوثیوں نے اس حملے کا ذمہ دار ریاض کو ٹھہرایا تھا، جبکہ یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ انہوں نے ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کے لیے کیا۔ حوثی ترجمان کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی سعودی عرب کی جانب سے یمن کی بندرگاہوں کے گزشتہ 12 سالہ محاصرے کا جواب ہے۔
اس اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں سنسنی پھیل گئی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے بحیرہ احمر کا سب سے اہم تجارتی راستہ "باب المندب” مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی برقرار رہتی ہے تو ایشیا کو ہونے والی سعودی تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں 7 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی برینٹ خام تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جو پہلے ہی امریکہ اور ایران کی کشیدگی کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھیں۔
سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس دھمکی آمیز اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حوثی گروپ سعودی بندرگاہوں کی طرف بڑھنے والے تجارتی جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کر سکتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بحیرہ احمر سے گزرنے والے جہازوں کے انشورنس چارجز میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی تجارت اور مہنگائی کی صورت میں پوری دنیا پر پڑے گا

