ملزمان کی فوری گرفتاری اور ہسپتالوں میں فول پروف سیکیورٹی نہ ملنے پر صوبائی سطح پر سخت احتجاجی تحریک کی دھمکی
کوئٹہ(الفجر آن لائن +نیوز ایجنسیاں) اتوار کی شب ٹیچنگ ہسپتال تربت میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک، شرمناک اور تشویشناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
جس میں مسلح افراد ہسپتال کے احاطے میں داخل ہوئے، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کو اسلحہ کے زور پر دھمکایا۔
خوف و ہراس پھیلایا اور ہوائی فائرنگ کر کے ہسپتال کے تقدس کو پامال کیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا موقف ہے کہ یہ واقعہ محض ایک اتفاقیہ سانحہ نہیں بلکہ متعلقہ انتظامیہ کی مسلسل غفلت اور سکیورٹی انتظامات کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔
تنظیم گزشتہ کئی ماہ سے ہسپتالوں میں فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کے مطالبے کے لیے احتجاج، دھرنوں اور متعدد بار متعلقہ حکام کو تحریری و زبانی طور پر آگاہ کرتی رہے ہیں۔
مگر افسوس کہ ان جائز مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
ٹیچنگ ہسپتال تربت سمیت صوبے کے تمام ہسپتالوں میں فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے، اور ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت تمام طبی عملے کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان، پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیچ اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کے تمام طبی عملے کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے۔
اور واضح کرتی ہے کہ طبی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی، تشدد یا اسلحے کے زور پر خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری اور مثر اقدامات نہ کیے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان طبی برادری کے ساتھ مل کر احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرے گی۔
جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

