واشنگٹن(الفجر آن لائن)امریکی وزارتِ دفاع،پینٹاگون کے مطابق اس ماہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
۔ سین پارنیل کے مطابق سات جولائی 2026 کے بعد سے تقریباً 100 افراد کو کسی نہ کسی درجے کی چوٹ لگی ہے۔
جن میں سے 96 فیصد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
پارنیل نے کہاکہ ’وہ دوبارہ محاذ پر واپس جانے کے لیے پُر عزم ہیں۔
اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ایرانی اہداف پر رات کے وقت حملے کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو تجارتی جہازوں پر حملوں سے روکنا ہے۔
جبکہ ایران نے ردعمل میں اردن، کویت، بحرین اور امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔
جبکہ جس مقام سے تیسرا امریکی فوجی لا پتہ ہوا تھا، وہاں سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔
ایک اور امریکی فوجی عراق میں ایرانی خود کش ڈرون کے گرنے کے بعد اس میں موجود دھماکہ خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ہلاک ہو گیا۔
پینٹاگون نے ایرانی حملوں کی تازہ لہر میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی درست تعداد یا نقصانات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی ہیں۔
فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز سے اب تک 413 امریکی فوجی اہلکار کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم اس تعداد میں اس ماہ کے زخمی شامل نہیں ہیں۔ ڈی سی اے ایس کی ویب سائٹ پر ایک اور جگہ زخمیوں کی تعداد 427 درج ہے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی ہلاکتوں کو شامل کیے بغیر 14 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

