واشنگٹن( الفجرآن لائن) امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک امریکی خزانے سے ساڑھے 37 ارب (37.5) ڈالر سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے۔ یہ بیان امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران دیا۔ پینٹاگون کے مطابق یہ اخراجات مئی کے وسط میں لگائے گئے گزشتہ تخمینے سے تقریباً 8 ارب ڈالر زیادہ ہیں، جس میں فضائی و بحری آپریشنز، میزائل ڈیفنس سسٹمز کا استعمال اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجیوں کی تعیناتی شامل ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگریس سے 67 ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی منظوری کی اپیل کی ہے تاکہ جنگ کے دوران ختم ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ پورا کیا جا سکے۔ دوسری جانب آزاد دفاعی تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ جنگ کے اصل اخراجات 40 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں کیونکہ پینٹاگون نے اپنے انڈیکس میں ان بنیادی اخراجات کو شامل نہیں کیا جو پہلے سے باقاعدہ بجٹ کا حصہ تھے۔
رپورٹ کے مطابق فروری سے شروع ہونے والے اس تنازعے میں اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک اور 430 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ حال ہی میں اردن اور عراق میں ہونے والے حملوں میں مزید تین امریکی اہلکار جان سے گئے۔ گزشتہ دنوں جنگ بندی کا معاہدہ ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں میں تیزی آئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی کی تنصیبات اور خفیہ ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل اور کھاد کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں

