Vessels at the Strait of Hormuz, as seen from Musandam, Oman, July 21, 2026. REUTERS/Stringer
صنعاء/ریاض (ویب ڈیسک) بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والے دو بڑے بحری ٹینکرز یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اچانک اپنا راستہ بدل کر واپس مڑ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی میں ایک نئے اور خطرناک محاذ کا آغاز ہے، جس نے آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں کو مفلوج کر کے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
غير ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ‘شین لونگ یانگ’ اور ‘روڈوس’ نامی دو بڑے کمرشل ٹینکرز نے سعودی عرب کی ریڈ سی بندرگاہ ینبع سے چین اور بھارت کے لیے خام تیل لوڈ کیا تھا۔ تاہم، حوثی گروپ کی جانب سے عالمی شپنگ کمپنیوں کو بھیجی گئی ای میل کے بعد، جس میں سعودی بندرگاہوں سے سامان لادنے یا وہاں اتارنے پر سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی، دونوں ٹینکرز نے باب المندب کی طرف جانے کے بجائے شمال میں نہر سویز کی طرف رخ کر لیا۔ حوثیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ نافرمانی کرنے والے کسی بھی جہاز کو کہیں بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہ سمندری بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست رات بھر شدید حملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی اور مغربی ایران میں شیراز، کونارک اور چاہ بہار کے قریب ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز اور میزائل سائٹس پر بھاری بمباری کی، جس کے جواب میں تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل داغے۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بھی تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں، جس سے وہاں بھی جہاز رانی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
اس نئی ناکہ بندی سے سعودی عرب کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سعودی عرب اپنی پائپ لائن کے ذریعے ریڈ سی کی بندرگاہوں کو متبادل کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ناکہ بندی برقرار رہی تو عالمی مارکیٹ سے 7 سے 10 فیصد تیل غائب ہو سکتا ہے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ بحری انشورنس کمپنیوں نے خطے میں جانے والے جہازوں کے لیے خطرے کے پریمیم میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے

