سب سے زیادہ سرمایہ مواصلات کے شعبے پر خرچ کیا، جہاں 7 کھرب 69 ارب روپے مختص کیے گئے
کان کنی (مائننگ) کا شعبہ سب سے کم فنڈز حاصل کرنے والا شعبہ رہا، جہاں گزشتہ 16 برس کے دوران 12 ارب 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے،
اسلام آباد(الفجرآن لائن) وفاقی حکومت نے گزشتہ 16 مالی سالوں (2010-11 سے 2025-26) کے دوران بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 14 کھرب 35 ارب روپے جاری کیے۔
یہ انکشاف سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات میں سامنے آیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے اس عرصے میں سب سے زیادہ سرمایہ مواصلات کے شعبے پر خرچ کیا، جہاں 7 کھرب 69 ارب روپے مختص کیے گئے۔
اس کے بعد آبی منصوبوں کے لیے 3 کھرب 5 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لییایک کھرب روپے سے زائد فنڈز بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق توانائی کے منصوبوں کے لیے 81 ارب 67 کروڑ روپے،تعلیم کے لیے 60 ارب 32 کروڑ روپے، زراعت کے لیے 45 ارب 37 کروڑ روپے۔
گورننس کے لیے 20 ارب 63 کروڑ روپے جبکہ صحت کے شعبے کے لیے 19 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
اسی طرحفزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 1 کھرب 21 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جبکہ کان کنی (مائننگ) کا شعبہ سب سے کم فنڈز حاصل کرنے والا شعبہ رہا، جہاں گزشتہ 16 برس کے دوران 12 ارب 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
دستاویزات کے مطابق یہ تمام فنڈز وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔
جن کا مقصد صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی سہولیات میں اضافہ تھا۔

