واشنگٹن/ریاض (ویب ڈیسک) غير ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس نے خلیجی خطے میں سی آئی اے کے خفیہ ٹھکانوں پر انتہائی درست ڈرون حملوں میں ایران کی معاونت کی تھی۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مغربی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، ان حملوں کی بے مثال درستگی اور حساس معلومات تک رسائی اس بات کی طرف مضبوط اشارہ کرتی ہے کہ ماسکو نے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تہران کو اہم معلومات اور جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن میں اس خدشے کے بعد شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ روس امریکی آپریشنز کو مفلوج کرنے کے لیے اپنی انٹیلی جنس صلاحیتیں ایران کے حوالے کر رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق، مارچ کے مہینے میں مشرقِ وسطیٰ میں سی آئی اے کی کم از کم دو اہم تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم ایک سی آئی اے اسٹیشن اور مشرقی عراق میں واقع ایک اور خفیہ مرکز شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض میں ہونے والے حملے میں دو ڈرونز نے بیک وقت کام کیا۔ پہلے ڈرون نے ایک حفاظتی دیوار میں شگاف پیدا کیا، جبکہ دوسرے ڈرون نے ٹھیک اسی راستے سے اندر داخل ہو کر دھماکہ کیا۔ اگرچہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن ان کی حیرت انگیز تکنیکی مہارت نے امریکی ماہرین کو چونکا دیا ہے۔
خفیہ اداروں کے تفتیش کاروں کا اصرار ہے کہ یہ مقامات انتہائی خفیہ تھے، اور روس کے سوا دنیا کے بہت کم ممالک کے پاس اتنی جدید ترین سیٹلائٹ نگرانی کی صلاحیت موجود ہے جو ان پوشیدہ مراکز کا سراغ لگا سکے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان حملوں میں ایران کے "شاہد-136” ڈرونز کا ایک ایسا جدید ورژن استعمال کیا گیا، جس میں روس کا تیار کردہ "کومیٹا-ایم” -سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم نصب تھا۔ یہ سسٹم ناصرف ڈرون کی رہنمائی کو انتہائی درست بناتا ہے بلکہ الیکٹرانک سگنلز جام کرنے کی امریکی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیتا ہے۔دوسری جانب، ماسکو نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روس نے ایران کو ایسا کوئی نیویگیشن سسٹم فراہم نہیں کیا۔ تاہم، امریکی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس اور ایران کی تزویراتی شراکت داری ایک نئی بلندی پر پہنچ چکی ہے، جہاں دونوں ممالک مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ طور پر فوجی اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں

