سرینگر (الفجر آن لائن)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے سرینگر میں 4 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تین رہائشیمکانات ضبط کرلئے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کشمیریوں کو ان کے گھروں سے محروم کرنے کی وسیع مہم کا حصہ ہے۔
پولیس نے اونتہ بھون، صورہ میں 12 مرلے اراضی کے ساتھ ایک دو منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کر لیا جس کی مالیت تقریباً 2.74 کروڑ روپے ہے اوریہمبشر احمد حکیم کی ملکیت ہے۔
اس سے قبل پولیس نے تقریباً 1.35 کروڑ روپے مالیت کے دو رہائشیمکانا ت بھی ضبط کئے تھےجن میںحیدرپوہ کے علاقے نادر گنڈ، پیر باغ میں ایک دو منزلہ مکان شامل ہے جس کی قیمت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے اوریہ عاقب فاروق کی ملکیت ہے۔
اس کے علاوہ حضرت بل کے علاقے اندرہامہ گاسو، بٹہ پورہ میں بھی ا ایک منزلہ مکان ضبط کیا گیا ہے جس کی مالیت تقریباً 65 لاکھ روپے ہے اوریہ اذان پرویز گلتساز کی ملکیت ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ مکاناتمنشیات کی اسمگلنگ سے ہونے والی آمدنی سے حاصل کئے گئے ہیں۔مبصرین کا کہناہے کہ بھارتی حکام انسداد منشیات کی کارروائیوں کی آڑ میں کالے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور مقبوضہ علاقے میں نجی املاک پر قبضے کے لیے بہانے تلاش کررہے ہیں۔
بھارتی حکام نے اگست2019ءمیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کو ان کی زمینوں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کاسلسلہ تیز کردیا تاکہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔

