اسلام آباد(الفجرآن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے طاقت کا استعمال فوری بند کرنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یکم اگست 2026 کو جاری کردہ ایک اہم ویڈیو پیغام میں انہوں نے انکشاف کیا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد نے تحریری طور پر ان سے ثالثی کی درخواست کی تھی، جسے انہوں نے قبول کیا۔ تاہم، حکومت نے اس سیاسی پیش رفت کو کوئی اہمیت نہیں دی اور تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال پر مصر رہی، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے دھرنا جاری ہے۔ 5 جون 2026 کو جب کشیدگی بڑھی اور حکومت و کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے، تو مظاہرین نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے اس اپیل پر لبیک کہا اور جے یو آئی آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان اور سردار کامران اعظم خان کے ذریعے مظاہرین سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا، لیکن ریاستی عدم توجہی کے باعث بحران حل نہ ہو سکا۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومتی رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی ریاست سے ماں جیسے سلوک کی امید رکھتے ہیں، مگر یہاں شہری مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہتے عوام پر فائرنگ کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکمران طبقہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ یہ احتجاج اب پورے کشمیر، پاکستان کے مختلف حصوں اور یورپ سمیت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، جو کہ ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کشمیر ایکشن کمیٹی کے شرکاء کے صبر اور تحمل کو سراہتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ شدید ترین کرب اور جانی نقصان کے باوجود مزید کوئی بڑا اقدام اٹھانے سے گریز کریں اور مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک اور موقع دیں۔ انہوں نے ریاستی اداروں اور حکومتی قیادت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا فوری احساس کریں، اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے صلح و آشتی کا راستہ اپنائیں اور مذاکرات کے لیے آگے بڑھیں

