اسلام آباد(الفجرآن لائن) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ)نے وزارت خزانہ کی منظوری کے بغیر غیر مجاز اکاؤنٹ سے 8کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چار گاڑیاں خرید لیں۔آڈیٹر جنرل نے تمام دستاویزات طلب کرلیے۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹی ڈیپ انتظامیہ نے جی ایس پی (جنرلائزڈ سیل پروسیڈز)اکاؤنٹ سے دو ٹویوٹا فورچونر اور دو ٹویوٹا کوسٹر گاڑیاں مجموعی طور پر 82.606 ملین روپے میں خریدیں، جو اتھارٹی کے مالیاتی ضوابط اور ٹی ڈی اے پی ایکٹ 2013 کی روح کے منافی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹی ڈی اے پی ایکٹ 2013 کی دفعہ 23 کے تحت ٹی ڈی اے پی فنڈ کے وسائل صرف اتھارٹی کے مقررہ فرائض کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں اور ان کا انتظام مالی احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اسی طرح دفعہ 9 کے تحت بڑے مالیاتی لین دین کی منظوری بورڈ سے لینا لازمی ہے۔آڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ اعلی قیمت کی گاڑیوں کی خریداری اس اکانٹ سے کی گئی جو خاص طور پر جنرلائزڈ سیل پروسیڈز کے لیے مختص تھا اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے نہیں تھا۔ آڈٹ کے مطابق یہ غیر مجاز فنڈز کا استعمال ہے اور ٹی ڈی اے پی ایکٹ 2013 کی واضح خلاف ورزی ہے۔انتظامیہ نے اپنے جواب میں کہا کہ گاڑیوں کی خریداری بورڈ کی 11ویں میٹنگ میں منظور کی گئی تھی۔ فنانس ڈویژن کے نمائندے نے مشورہ دیا تھا کہ وفاقی حکومت کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی کی وجہ سے ٹی ڈی اے پی اپنے وسائل یا ای ڈی ایف سے گاڑیاں خرید سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ ادائیگی عارضی طور پر جی ایس پی اکانٹ سے کی گئی تاکہ بین الاقوامی ایونٹ کے لیے سیکیورٹی انتظامات جلد مکمل ہو سکیں اور بعد میں ای ڈی ایف فنڈز جاری ہونے پر رقم واپس کر دی گئی۔آڈٹ نے انتظامیہ کے اس جواب کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے کیونکہ ادائیگی جی ایس پی اکانٹ سے ہوئی جو اس قسم کے اخراجات کے لیے مختص نہیں تھا اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی سے کوئی استثنا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ انتظامیہ بورڈ کی منظوری اور فنڈز کی واپسی کے مستند دستاویزی ثبوت پیش کرے

