لاہور میں سم ڈسٹری بیوشن سائٹ اور زونل آفس کا دورہ، مستحق خواتین کو نئے ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور حفاظتی تدابیر پر تفصیلی بریفنگ
لاہور (الفجرآن لائن) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے گورنمنٹ اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری سکول، ملتان روڈ لاہور میں قائم بینظیر سم ڈسٹری بیوشن سائٹ کا دورہ کیا اور خواتین بینیفشریز کو مفت سم کی فراہمی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے وہاں موجود خواتین سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور انہیں بینظیر سم، نئے ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور اس سے متعلق اہم حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بینظیر سم بالکل مفت ہے اور اس کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی کسی بھی سکیم، سروس یا سروے کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں ہے اور نہ ہی سروے کے لیے کسی فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیئرپرسن نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی ایجنٹ کو رقم میں کٹوتی نہ کرنے دیں اور شکایت کی صورت میں فوری طور پر ادارے کو اطلاع دیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف بروقت اور سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔
چیئرپرسن نے خواتین کو آگاہ کیا کہ بینظیر سم ان کا ڈیجیٹل بٹوا ہے، جس کی حفاظت ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ خواتین اپنا موبائل فون یا سم کسی بھی صورت ایجنٹ کے حوالے نہ کریں۔ وظیفے کی رقم آنے پر موبائل پر موصول ہونے والے تصدیقی پیغام کو محفوظ رکھا جائے اور اسے ڈیلیٹ نہ کیا جائے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ بینظیر سم صرف بی آئی ایس پی کے متعلقہ دفاتر سے ہی حاصل کریں اور کسی عام دکان سے خریداری سے گریز کریں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر متعارف کرایا گیا نیا ڈیجیٹل نظام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اور مجاز بینک کے کسی بھی ایجنٹ سے اپنی رقم حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر ایک ایجنٹ کے پاس رقم نہ ملے تو دوسرے مجاز ایجنٹ سے رجوع کرنے کا پورا اختیار موجود ہے۔ جن خواتین کے انگوٹھے کے نشانات کی تصدیق نہیں ہو رہی، وہ نادرا دفتر سے فیشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اپنی رقم وصول کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ شکایات کا فوری ازالہ ہو سکے۔ انہوں نے خواتین کو آگاہ کیا کہ مستند معلومات کے لیے صرف بی آئی ایس پی کے بلیو ٹک والے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہی معلومات حاصل کریں۔ بعد ازاں، سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی سینٹرل زونل آفس لاہور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈائریکٹر جنرل پنجاب نصیر الدین سرور کی موجودگی میں شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے نظام کا معائنہ کیا اور قائم شدہ نظام کی کارکردگی کو سراہا۔

