آئین، قانون، مہنگائی، معیشت اور امن و امان سمیت قومی معاملات پر اپوزیشن کی مشترکہ آواز بلند کرنے کا فیصلہاپوزیشن جماعتیں آزاد عدلیہ، آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کیلئے متحد، صوبوں کی تشکیل نو پر مشاورت کا مطالبہ
اسلام آباد (الفجرآن لائن) جوائنٹ اپوزیشن کا پہلا پارلیمانی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارلیمان کے اندر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے، قومی و عوامی اہمیت کے معاملات پر متفقہ موقف اپنانے اور پارلیمان کے باہر بھی مشترکہ طور پر آواز بلند کرنے کے امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج خوشی اور مبارکباد کا دن ہے کہ گھٹن کے ماحول میں اپوزیشن جماعتیں آئین کی بالادستی کے لیے متحد ہوئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک باعزت اور جمہوری پاکستان کے قیام کے لیے اپوزیشن کی کوششیں رنگ لائیں گی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آزاد عدلیہ اور پاکستان کے نظام کی تشکیل نو کے لیے متحد ہیں۔ یہ اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ملک میں جاری حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ سینکڑوں لوگ پاکستان میں جان سے جا رہے ہیں جبکہ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ آئندہ معاملات باہمی اتفاق رائے سے طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی کمزوریوں کو چھپایا نہیں جا سکتا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ کی بات کرتے ہیں، جبکہ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور عالمی سطح پر ہماری رینکنگ کیا ہے۔ انہوں نے صوبوں کے حوالے سے مجوزہ اقدامات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں صوبوں کی تشکیل نو یا انہیں توڑنے کی بات مناسب نہیں۔ ان کے بقول اس معاملے پر نہ مناسب ماحول ہے اور نہ ہی ضروری تیاری موجود ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا نیک شگون ہے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور شہریوں کے عدم تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں رہی اور ملک میں دشمنیاں بڑھ رہی ہیں۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے واقعات تشویشناک ہیں اور شہریوں کی ناموس و عزت محفوظ نہیں رہی۔ انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق عدالتوں کے فیصلوں اور قانون کی پاسداری نہ ہونے سے ایک غلط مثال قائم ہو رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ پارلیمان میں متنازع آئین سازی کی گئی ہے۔ انہوں نے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کہا کہ صوبے راتوں رات نہیں بنائے جا سکتے بلکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس پر مناسب اور جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں متفقہ موقف اپنائیں گی۔ پارلیمان کے باہر بھی قومی اہمیت کے معاملات پر اپوزیشن کا مؤقف یکساں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی، مہنگائی، معیشت اور دیگر قومی و عوامی مسائل پر مشترکہ آواز اٹھائی جائے گی

