اسلام آباد (الفجر آن لائن) سینیٹر پرویز رشید نے سینیٹ کے اجلاس میں کہا ہے کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی لگائی جائے، اس پابندی سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں بہتری آئے گی
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پمز جیسے المیے روز پاکستان کی تقدیر بن چُکے ہیں، ہم ایک نئے المیے کا استقبال کرتے ہیں ، یہ سب ختم نہیں ہو گا، انکوائری بھی ہو اور سزا بھی ہو ، مگر اس سے پہلے بھی انکوائریاں ہوئیں، سزائیں بھی ہوئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی ہونی چاہئے،
اس پابندی کے بعد مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو گا، جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہ کرائے وہ نوکری سے جائے۔
پرویز رشید نے کہا کہ جو شخص سرکاری تنخواہ لے وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرے تو ٹرانسپورٹ بہتر ہو جائے گی،
سی ایم ایچ کی آپ ہمیشہ تعریف سنیں گے کیونکہ فوج کے نچلے عملے سے اوپر افسر تک سب سی ایم ایچ سے علاج کراتے ہیں۔

