اسلام آباد(الفجرآن لائن)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے واقعے پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا، اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم نے پمز واقعے کی انکوائری کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے، سی ڈی اے نے کیا کہا، پمز نے کیا کہا، تمام تر باتوں کا فیصلہ ایک جگہ ہونا چاہیے۔
جنہوں نے آج اپنی رپورٹس جمع کرانی ہیں، ان کے 48 گھنٹے پورے ہونے دیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بھی کمیٹی بنانے کی بات ہوئی ہے، میری گزارش ہے کہ دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔
کمیٹی کے لیے 30 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی شرط نہ رکھی جائے، مقصد ایسا اقدام کرنا ہے جس سے مستقبل میں کسی بچے کو ایسے حادثے سے بچایا جاسکے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پوری وزارت آپ کے حکم کے تابع ہوگی، جب جب آپ نے مجھ سے جو پوچھنا ہے، میں حاضر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن میں نے وہ کام کیے ہیں جو انہوں نے سوچے بھی نہیں تھے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن سے کمیٹیوں میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے واقعے کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں وزارت کا کوئی رکن شامل نہیں۔
دوسری کمیٹی کا انکوائری کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں، اسے پمز کی بہتری اور مستقبل کے لیے ورکنگ پیپر تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے اسے ایک ٹیسٹ کیس کے

