راولپنڈی (الفجرآن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف کے واضح احکامات کے باوجود گرمی اور حبس کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی جڑواں شہروں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ زور پکڑ گئی راولپنڈی اسلام آباد میں 8 سے 10 گھنٹے یومیہ بجلی کی بندش سے جہاں گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو گئی
وہیں پر کاروباری طبقے کے لئے معمولات جاری رکھنا ناممکن ہو گیا دن رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش نے طلبا وطالبات کو انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار کر دیا
وفاقی دارلحکومت کے علاقوں کھنہ ڈاک، کھنہ ایسٹ، مدینہ ٹاؤن، قطبال ٹاؤن، راجہ نصیب اللہ ٹاؤن، شکریال ایسٹ اورچوہدری فرمان علی ایونیو کے علاوہ راولپنڈی کے علاقوں صادق آباد، مسلم ٹاؤن، خرم کالونی، آفندی کالونی، ڈھوک کالا خان، خیابان سرسید سمیت اندرون شہر گنجان علاقوں میں وقت بے وقت کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے روز مرہ کے معمولات درہم برہم کر دیئے
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے مطابق ایک سے 2 گھنٹے بجلی کی بندش کو آئیسکو کا عملہ پہلے لوڈ شیڈنگ کا نام دیتا ہے جس کے بعد دوبارہ بجلی کی بندش کو فیڈر یا ٹرانسفارمر میں خرابی یا مینٹیننس کا بہانہ بنایا جاتا ہے
اسی طرح ہر مرتبہ ایک نئے اور الگ جواز کے ساتھ مختلف علاقوں میں 1 سے 4 گھنٹے لگا تار بھی بجلی بند کر دی جاتی ہے صارفین کے مطابق ایک طرف حکومت شاٹ فال کا رونا روتی ہے اور دوسری جانب سولر صارفین کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا
شہریوں نے الزام لگایا کہ واپڈا اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے راولپنڈی کے مختلف رہائشی اور گنجان علاقوں کی گلیوں میں قائم بازاروں اور مارکیٹوں میں ڈومیسٹک میٹروں پر کمرشل بجلی استعمال کی جاتی ہے
جس سے بجلی چوری اور لائن لاسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور یہ تمام نقصانات پورے کرنے کے لئے سارا ملبہ ایسے صارفین پر گرایا جاتا ہے جو ماہانہ 12/15 ہزار روپے بل بھی ادا کرتے ہیں اور انہیں یومیہ 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا ہے ا

