اسلام آباد (الفجرآن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مقررہ مدت میں مکمل کرنے، اصلاحاتی عمل کا تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنانے اور ٹیکس چوری، اسمگلنگ و غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی
وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملکی ترقی اور مضبوط معیشت کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں پی آر اے ایل (PRAL) کی تنظیم نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، کسٹمز میں فیس لیس اسیسمنٹ اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے IRIS 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ IRIS 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق پی آر اے ایل میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت تعینات کی گئی ہے۔ IRIS 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو
ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر میں اچھی شہرت رکھنے والے گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔
کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت نتائج کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فیس لیس اسیسمنٹ کے نتیجے میں محاصل میں بہتری کے ساتھ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور نگرانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
عبوری انتظام کے تحت یونٹ کو 31 دسمبر 2026 تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے جولائی 2025 میں 236 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جبکہ جولائی 2026 میں ان کا حجم 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا۔
دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

