کالعدم بی ایل اے خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد اور مبینہ بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کر رہی ہے، میر ضیا لانگو
دہشتگرد عناصر خواتین کو پہاڑوں پر لے جا کر نامحرم مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر کے بلوچ معاشرے کی روایات، خواتین کے احترام
اور اقدار کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، وزیرداخلہ
زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس
کوئٹہ (الفجرآن لائن) وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے کہا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد اور مبینہ بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ دہشتگرد عناصر خواتین کو پہاڑوں پر لے جا کر نامحرم مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر کے بلوچ معاشرے کی روایات، خواتین کے احترام اور اقدار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر ضیا لانگو نے کہا کہ اگر کسی بلوچ کی ماں، بہن یا بیٹی کسی نامحرم کے ساتھ پہاڑوں میں جا کر رہے اور دشمن کے بیانیے کے تحت کام کرے تو کیا بیرون ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے بلوچ اپنی خواتین کے بارے میں ایسا تصور قبول کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے بلوچ روایات، خاص طور پر خواتین کے احترام اور ناموس سے متعلق روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے پریس کانفرنس میں ساتھ موجود 16 سالہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو بی ایل اے کے شکنجے میں لا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
ان کے مطابق زینب جنوبی بلوچستان کی رہائشی ہے اور اس کے 8 سے 10 رشتہ داروں کو بی ایل اے نے مختلف اوقات میں قتل کیا۔وزیر داخلہ کے مطابق زینب کی 16 سال کی عمر میں سیف نامی شخص سے شادی ہوئی، جو ایک پرامن شہری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر نے سیف کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ کمانڈر نے کسی ذریعے سے سیف کا موبائل نمبر حاصل کرکے اس سے رابطہ کیا اور اسے اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ناکامی کے بعد مبینہ طور پر سیف کو قتل کردیا گیا۔میر ضیا لانگو نے کہا کہ سیف کی لاش، اس کا موبائل فون اور دیگر سامان گھر پہنچایا گیا، لیکن کمانڈر کی جانب سے رابطے کی کوششیں ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق اس دوران کمانڈر نے زینب سے بھی رابطہ کیا اور اسے یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ مبینہ جھوٹا بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشتگرد نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بلوچ معاشرے میں خواتین، بچیوں اور خاندانوں کے احترام سے متعلق روایات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کو ایک کال کے ذریعے بلایا گیا، جس کے بعد دونوں کو مبینہ طور پر تقریباً 40 روز تک ایک خالی کوٹھری میں رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران انہیں مسلسل اپنے بیانیے پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس اداروں نے کارروائی کرکے دونوں بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں کس طرح خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام کے حوالے سے اپنی روایات کے لیے جانا جاتا ہے اور پاکستانی معاشرے میں بھی خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ ان کے مطابق حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ کی قیادت میں خواتین کو سہولیات فراہم کرنے، ان کی تعلیم پر توجہ دینے، آمدورفت بہتر بنانے اور انہیں اسکالرشپس دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔میر ضیا لانگو نے کہا کہ کسی بھی انسان کا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کی ماں، بہن یا بیٹی ایک منٹ کے لیے بھی کسی نامحرم کے ساتھ جا کر رہے۔
خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے پہاڑوں میں رکھنا بلوچ اور بلوچستان کی روایات میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔انہوں نے دہشتگرد عناصر سے سوال کیا کہ اگر انہیں دہشتگردی کرنی ہے تو وہ خود یہ کارروائیاں کریں، خواتین اور بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل کے ذریعے بلوچ خواتین اور بلوچ معاشرے کی روایات کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر متاثرہ 16 سالہ زینب نے بھی پریس کانفرنس میں بلوچی زبان میں اظہار خیال کیا۔
انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کیے اور بی ایل اے کے مبینہ طریقہ واردات، رابطوں اور اپنے مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔میر ضیا لانگو نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے خواتین اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

