اسلام آباد (الفجرآن لائن) پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی اور دھماکے کے واقعے کی تحقیقات میں ہوشربا انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں موجود بعض ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور سکیورٹی اہلکار مبینہ طور پر بچوں کو بچانے یا صورتحال کا سامنا کرنے کے بجائے جائے وقوعہ سے بھاگ گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے کے وقت موجود عملے کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق نرسری میں آگ لگنے اور دھماکے کے وقت نرسنگ اسٹاف اور ڈاکٹرز کے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کا انکشاف سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ نرسری میں ڈیوٹی پر موجود نائٹ سپروائزر فانوس، سٹاف نرس نسرین اور آیا جافزا بھی واقعے کے فوراً بعد مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے بھاگ گئے۔
ذرائع کے مطابق نرسری میں ڈیوٹی پر تعینات خاتون سکیورٹی گارڈ بھی دھماکے کی آواز سنتے ہی موقع سے فرار ہوگئی۔
مذکورہ سکیورٹی گارڈ کے پاس نرسری روم کی چابیاں موجود تھیں اور تحقیقات کے مطابق وہ چابیاں لے کر ہی وہاں سے چلی گئی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز سنتے ہی ڈیوٹی پر موجود ایک سینئر ڈاکٹر اور ایک ٹرینی بھی موقع سے بھاگتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دیے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق نرسری سمیت ہسپتال کے دیگر مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں نے واقعے کی تحقیقات میں اہم معاونت فراہم کی۔
فوٹیج کے ذریعے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کی موجودگی اور نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی روشنی میں ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے،
جبکہ تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر متعلقہ افسران اور ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔نرسری میں آگ لگی تو چابیاں لے کر سکیورٹی گارڈ بھی بھاگ گئی

