اسلام آباد(الفجرآن لائن) پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے برین گین پورٹل کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پاکستانی انجینئرنگ کمیونٹی کو دنیا بھر میں موجود تجربہ کار پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین سے جوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پورٹل کا افتتاح پی ای سی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی انجینئر شاہد اقبال بلوچ تھے۔سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اور چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے مشترکہ طور پر پورٹل کا افتتاح کیا۔ فرانس میں پاکستان کی سفیر عزت مآب محترمہ ممتاز زہرا بلوچ نے تقریب میں بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، فرانس، نیوزی لینڈ، متحدہ عرب امارات، کویت، آسٹریلیا، کینیڈا اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارتی مشنز کے نمائندوں، وائس چانسلرز، فیکلٹی اراکین، صنعت کے نمائندوں، انکیوبیشن سینٹرز، ٹیکنالوجی پارکس، اسٹارٹ اپس اور مختلف ممالک سے برین گین ایمبیسیڈرز نے شرکت کی۔ یہ پورٹل بیرونِ ملک مقیم پاکستانی انجینئرز اور ماہرین کو طلبہ کی رہنمائی، تحقیقی اور تکنیکی تجاویز کا جائزہ لینے، فائنل ایئر پراجیکٹس کی نگرانی، اسٹارٹ اپس کو مشاورت فراہم کرنے اور پاکستان میں صنعت، انجینئرنگ معیارات اور ایکریڈیٹیشن کے شعبوں میں خصوصی معاونت فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔پورٹل دو بنیادی کیٹیگریز، کنٹری بیوٹرز اور سیکرز، کے تحت کام کرتا ہے۔ سینئر انجینئرز، ماہرینِ تعلیم، کنسلٹنٹس اور دیگر ماہرین اپنی مہارت، رہنمائی اور پیشہ ورانہ روابط فراہم کرنے کے لیے بطور کنٹری بیوٹر رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، جبکہ طلبہ، جامعات، اسٹارٹ اپس اور صنعت عملی مسائل، منصوبے اور تحقیقی ضروریات پیش کرکے بطور سیکرز اس پلیٹ فارم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پلیٹ فارم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے پاکستانی انجینئرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ’’ہال آف فیم‘‘، انجینئرنگ کے نمایاں کارناموں کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ’’آئیکونک پراجیکٹس رجسٹری‘‘ اور دنیا بھر میں انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستانیوں کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ’’کامیابی کی داستانیں‘‘ کا سیکشن بھی شامل ہے۔چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانی انجینئرز کے علم اور مہارت کو ملک تک واپس لانا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنے انجینئرز سے وطن واپس آنے کا مطالبہ نہیں کر رہے، ہم ان کے علم کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔ جب علم واپس آتا ہے تو خیالات اس کے پیچھے آتے ہیں، مواقع بڑھتے ہیں اور پاکستان آگے بڑھتا ہے۔‘‘
سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی انجینئر شاہد اقبال بلوچ نے پورٹل کو محض ایک نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصدیق شدہ مہارت کا مستقل ذخیرہ ہے، جس سے پاکستان ضرورت کے وقت استفادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اپنا ٹیلنٹ اس وقت نہیں کھوتا جب وہ سرحد عبور کرتا ہے، بلکہ وہ اسے اس وقت کھوتا ہے جب اس کے ساتھ رابطہ اور اس کی خدمات حاصل کرنا چھوڑ دیتا ہے۔فرانس میں پاکستان کی سفیر عزت مآب محترمہ ممتاز زہرا بلوچ نے پورٹل کے کامیاب آغاز پر پی ای سی کو مبارک باد دی اور اس اقدام کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز برین گین کے وژن سے متفق ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی انجینئرز اور سائنس دان باہمی رابطہ قائم کریں، مہارت کا تبادلہ کریں اور ملک کی ترقی کے لیے تعاون کریں۔
برین گین پورٹل پی ای سی کے کارپوریٹ افیئرز یونٹ نے ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز انجینئر محمد سہیل خان کی قیادت میں تیار کیا۔ گلوبل لنکیجز ڈویژن کے انجینئر علی رضا آصف نے پلیٹ فارم کی تیاری کی قیادت کی، جبکہ سسٹم ڈویلپمنٹ ڈویژن کے حمزہ خان نے اس کی خصوصیات کے نفاذ کی نگرانی کی۔ پورٹل کا ڈیزائن بیرونِ ملک مقیم سینئر پاکستانی انجینئرز پر مشتمل برین گین ایمبیسیڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا، جو اپنے اپنے خطوں میں رابطہ کاری کی قیادت کریں گے۔ پورٹل کو ابتدائی طور پر بیٹا ورژن میں متعارف کرایا گیا ہے اور رکنیت اور استعمال میں اضافے کے ساتھ اسے مکمل ورژن میں منتقل کر دیا جائے گا۔ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی انجینئرز اور دیگر ماہرین، بین الاقوامی ماہرین، طلبہ، جامعات، اسٹارٹ اپس اور صنعتی اداروں کے لیے braingain.pec.org.pk پر مفت رجسٹریشن دستیاب ہے۔

