"تعلیم انسان کو تقدیر بدلنے کی طاقت دیتی ہے، سڑکیں اور پل صرف سہولت فراہم کرتے ہیں”، مختلف وفود سے گفتگو
کوئٹہ (الفجرآن لائن):گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کی اصل عظمت اقتدار کے حصول میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد اور ان کی بے لوث خدمت میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست کو ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے انسانی زندگیوں میں بہتری لانے، نئی نسل کو مواقع فراہم کرنے اور معاشرے کی مثبت تعمیر کا وسیلہ ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گورنر نے اپنے چالیس سالہ سیاسی کیریئر کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی خوشی اور غم کو اپنا سمجھتے ہیں اور ان کی سیاست کا محور ہمیشہ عوامی بہبود رہا ہے۔ملاقات کے دوران گورنر بلوچستان نے اپنے ماضی کے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے انتہائی اطمینان کا باعث ہے کہ ان کی سیاسی زندگی میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں متعدد تاریخی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے آج صوبے کے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ جعفر خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی اس کی شاندار عمارت نہیں ہوتی، بلکہ اس سے پیدا ہونے والے انسانی فوائد اور عوام کو ملنے والا ریلیف اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ان کے لگائے ہوئے ان فلاحی منصوبوں کے ثمرات آنے والی کئی نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں۔تعلیم کو اپنے سیاسی وژن کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ سڑکیں، عمارتیں اور پل معاشرے کو صرف عارضی سہولت دے سکتے ہیں، مگر تعلیم وہ واحد ہتھیار ہے جو انسان کو اپنی تقدیر خود بدلنے کی طاقت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے کیریئر میں انہوں نے جن درجنوں تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی، وہ آج تناور درخت بن چکے ہیں اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات نہ صرف اپنے خاندانوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک اسکول کی بنیاد ایک نسل کی بنیاد ہوتی ہے اور ایک یونیورسٹی پوری نسل کا فکری مستقبل بدل سکتی ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر گورنر جعفر خان مندوخیل نے مستقبل کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پل پل بدلتی ہوئی عالمی معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر ہمیں اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر انسانی صلاحیتوں کو تعمیر کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمیں ایسے ذہن پیدا کرنے ہوں گے جو صوبے کو علمی ترقی اور جدید معیشت کی طرف لے جا سکیں، تاکہ بلوچستان بھی ترقی یافتہ خطوں کی صف میں شامل ہو سکے

