اسلام آباد(الفجر آن لائن)وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور راناثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی اپنے عہدے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے فساد اور فتنہ تلاش کرتے پھر رہے ہیں وہ گلی گلی ڈھونڈ رہے ہیں کہ ایسا واقعہ ہو جائے کہ جس سے فتنہ فساد ہو۔
ایک انٹرویو میں راناثنااللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی نے خود کو اغوا کرانے کی کوشش کی اور پولیس وین میں بیٹھ گئے پولیس نے اگلے چوک پر جا کر سہیل آفریدی کو سمجھایا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں، پولیس نے انھیں بتایا کہ ہمیں آپ کو گرفتار کرنے کا کوئی آرڈر نہیں ہے اگلے چوک پر سہیل آفریدی اتر گئے اور اسی جگہ پر بیٹھ گئے۔
راناثنااللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کوشش کر تے رہے کوئی ایسا واقعہ ہو جس سے ملک کی بدنامی ہو تاہم حکومت اور پولیس کی کوشش یہی ہیکہ ان کو ایسا کوئی موقع نہ دیاجائے، سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کی باتیں جھوٹ ہیں اسے ڈرامہ بھی کہہ سکتے ہیں سہیل آفریدی سندھ گئے تھے تو وہاں بھی یہی مقصد تھا
پنجاب میں بھی یہی چاہتے ہیں جس نوجوان کے گھر سہیل آفریدی گئے جو زخمی ہوگیا تھا انھوں نے ان کی خاطرمدارت کی ہے سہیل آفریدی کو وہاں کہاگیا کہ آپ کو 17دن بعد ہمارا خیال آیا ہے سہیل آفریدی کے گھر جانے پر جو بچہ ویڈیو بنا رہا تھا اس سے موبائل چھین لیا گیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے مجھے کوئی معلومات نہیں ہے پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت کے انتظامیہ اور ہم سے بھی رابطہ ہے۔
پی ٹی آئی کے بہت سارے دوست چاہتے ہیں کہ کوئی تشدد نہ ہو، پی ٹی آئی کا اصل کراؤڈ پشاور،کے پی سے آئیگا یہ خود کہتے ہیں کہ کے پی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پائے جاتے ہیں بعض اوقات تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مغرب کے بعد سفر محفوظ نہیں ہوتا،
یہ چاہتے ہیں کے پی سے ایک جتھہ اسلام آباد کا گھیراؤ اور حکومت گرانے کیلئے چلے، پاکستان میں فتنہ فساد برپا کرنے کیلئے دہشتگردوں کے پاس اس سے اچھا موقع کہاں ہو گا مسلح جتھہ اسلام آباد کی طرف بڑھے گا تو کس طرح وائلنس کو نظرانداز کیا جا سکتاہے۔

