لاہور(الفجر آن لائن)ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبہ بھر میں پریشر ہارن کے استعمال کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیدیا۔منگل کے روز صوبے بھر میں پریشر ہارن کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک حکام کے مطابق ہسپتالوں، درسگاہوں، ایمرجنسی سینٹرز اور دیگر حساس و غیر ممنوعہ علاقوں میں ہارن کے غیر ضروری استعمال پر بھی کارروائی کی جائے گی، مسلسل اور لگاتار ہارن بجانے والے ڈرائیورز کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں سے پریشر ہارن اتار دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے استعمال پر 3 لاکھ 83 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے جا چکے ہیں، جبکہ لاہور ٹریفک پولیس نے ہارن کے غلط استعمال پر 48 ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹ جاری کیے۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کا استعمال انسانی سماعت اور اعصابی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ ان کے خلاف جاری کریک ڈان کے نتیجے میں شور کی آلودگی میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ صوتی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور غیر ضروری ہارن کے استعمال سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق محفوظ، پرسکون اور ماحول دوست سڑکیں ہی محفوظ ڈرائیونگ کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

