اسلام آباد(الفجر آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹری ورکر ذیشان کو مبینہ طور پر طے شدہ تنخواہ سے نصف سے بھی کم ادائیگی اور بعد ازاں خودکشی کے معاملے سمیت بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت اجلاس میں مرحوم ذیشان کے اہلخانہ نے بھی شرکت کی اور واقعے سے متعلق کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ورثا کے مطابق ذیشان کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے طے تھی، تاہم اسے ملازمت کے آغاز سے صرف 19 ہزار روپے ادا کیے جارہے تھے۔ اہلخانہ نے بتایا کہ ذیشان نے تنخواہ کی عدم ادائیگی کے معاملے پر چیمبر آف کامرس اور ڈپٹی کمشنر سے بھی شکایت کی، جس کے بعد اس کا تبادلہ کردیا گیا۔
ذیشان کے بھائی نے بتایا کہ 8 جون کو اس کے بھائی نے ایک ویڈیو بنائی جس میں اس نے ایک شخص کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تنخواہ لینے جائے گا اور اگر اسے تنخواہ نہ ملی تو انتہائی قدم اٹھائے گا۔
چیئرپرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز زہری نے سوال کیا کہ ذیشان کی جانب سے اس نوعیت کا انتباہ دیے جانے کے باوجود اسے روکنے یا مدد فراہم کرنے کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
اجلاس کے دوران متعلقہ کمپنی کے حکام کے بیانات میں تضاد سامنے آنے پر چیئرپرسن نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو اجلاسوں میں کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ ذیشان کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا،
اس کی تنخواہ ادا کردی گئی اور برطرفی کا خط بھی جمع کرایا گیا، جبکہ اب یہ مؤقف اختیار کیا جارہا ہے کہ ذیشان کبھی کمپنی کا ملازم ہی نہیں تھا۔
ثمینہ ممتاز زہری نے سوال اٹھایا کہ اگر ذیشان کمپنی کا ملازم نہیں تھا تو اس کے نام پر برطرفی کا خط کیوں جاری کیا گیا۔ انہوں نے حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معاون ملازم تھا تو محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں کیا کام کررہا تھا۔
کمیٹی چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مرحوم کے ورثا کے تمام واجبات آئندہ اجلاس سے قبل ادا کیے جائیں۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کی چیئرپرسن کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں پنجاب میں 12 ہزار جبکہ خیبرپختونخوا میں 850 واقعات شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا کے سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 15 برس کے دوران صوبے میں بچوں سے زیادتی کے تقریباً 35 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے۔
ڈی آئی جی تفتیش کے مطابق 31 اگست 2026 تک صوبے میں بچوں سے زیادتی کے 395 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بچوں کے قتل کے 600 واقعات بھی سامنے آئے۔چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبے
کے تمام اضلاع میں بچوں کے تحفظ کے مراکز قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی کے لیے مساجد کے ائمہ سے بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اجلاس میں اسلام آباد کے ایک نجی اسکول میں بچی کے مبینہ زیادتی کے واقعے پر بھی سینیٹر ایمل ولی خان نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعہ درست ثابت ہوتا ہے اور اسکول انتظامیہ ملوث پائی جاتی ہے تو ادارے کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
ایمل ولی خان نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض اشتہارات کی موجودگی پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام سے بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے اشتہارات کیسے چل رہے ہیں اور متعلقہ ادارہ ان کے خلاف کیا اقدامات کررہا ہے۔
پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلنے والے اشتہارات کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں، تاہم شکایات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق ویب سائٹس کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس موجود ہے جبکہ بعض بڑے پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اختیار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سینیٹر قرۃ العین مری نے گمشدہ بچوں اور بچوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی زینب الرٹ ایپ کی مؤثر تشہیر نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فیس بک ریلز سمیت دیگر سماجی ذرائع ابلاغ پر اس کی بھرپور آگاہی کیوں نہیں کی جارہی۔
وزارت انسانی حقوق کے حکام نے بتایا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق متعدد ایپس تیار کی گئی ہیں اور ان پر مزید کام جاری ہے۔ کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ اگر یہ سہولیات موجود ہیں تو دیہی علاقوں اور عام شہریوں کو ان کے بارے میں آگاہ کرنے کی ذمہ داری کون ادا کرے گا۔
حکام نے بتایا کہ سرکاری ٹی وی پر آگاہی مہم چلائی گئی تھی، جس پر ایمل ولی خان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”پی ٹی وی کون دیکھتا ہے؟“سینیٹر قر العین مری نے وزارت انسانی حقوق کے حکام کی نامکمل تیاری پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر افسران مکمل تیاری کے ساتھ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے تو انہیں اجلاس میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ کمیٹی ارکان اپنا وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں بیٹھے۔
چیئرپرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ اگر جرائم میں سزا یقینی ہو تو مقدمات میں سمجھوتوں کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔ ان کے مطابق اکثر خاندانوں پر دباؤ ڈال کر مقدمات میں صلح یا سمجھوتہ کرایا جاتا ہے۔
کمیٹی نے ذیشان کے معاملے، بچوں کے تحفظ، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں مزید تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

