گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت، اساتذہ کی مستقل تعیناتی پر پابندی ختم کرنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری پر زور
کوئٹہ (الفجر آن لائن) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے میں پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث اب تک 100 سے زائد اسکالرز بلوچستان چھوڑ چکے ہیں، جو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی شعبے کے لیے تشویش ناک صورتحال ہے۔ برین ڈرین کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو صوبے میں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے اساتذہ اور محققین کو راغب کرنے کے لیے ایک جامع اور پُرکشش حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔
گورنر بلوچستان نے یہ بات بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ادارے کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
جعفر خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تجربہ کار اساتذہ اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی خدمات سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل تعیناتیوں اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کے باعث قابل اور باصلاحیت افراد کی صوبے سے منتقلی کا سلسلہ تشویش کا باعث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ طلبہ کو جدید علوم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے نئی یونیورسٹیز اور کیمپسز کا قیام انفرادی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقامی ضروریات، تعلیمی تقاضوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لایا جائے گا۔
انہوں نے موجودہ کیمپسز کی افادیت کا جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت کے مطابق بعض کیمپسز کو برقرار رکھنے، ضم کرنے یا ختم کرنے سے متعلق پالیسی ساز فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔
جعفر خان مندوخیل نے نشاندہی کی کہ بعض جدید تعلیمی شعبہ جات میں سینئر فیکلٹی ممبران کی شدید کمی ہے، جبکہ بعض روایتی شعبہ جات میں طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں تدریسی عملہ زیادہ موجود ہے۔
انہوں نے اس عدم توازن کو دور کرنے اور انسانی وسائل کی مؤثر منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی سازی، دستیاب وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور تعلیمی و تحقیقی معیار میں مسلسل بہتری ناگزیر ہے۔
گورنر بلوچستان نے وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، تاہم صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اجلاس میں سینیٹ ممبران کی تجاویز اور سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی اور انتظامی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، قائد حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ، رجسٹرار انجینئر لیاقت لہڑی اور سینیٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ ممبران میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

