38.7 ملین افراد کی رجسٹریشن اور کوائف کی تجدید میں 647 ڈائنامک رجسٹری سینٹرز اور 32 موبائل رجسٹریشن گاڑیوں کا اہم کردار؛ جرمن وفد کا بی آئی ایس پی ون ونڈو سینٹر اسلام آباد کا دورہ
اسلام آباد (الفجر آن لائن) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور جرمن ترقیاتی تعاون نے پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، بالخصوص موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور موافق نظام تشکیل دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں جرمنی کے اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں بی آئی ایس پی کے ون ونڈو سینٹر کا دورہ کیا، جہاں وفد کو پروگرام کی پیش رفت اور پاکستان جرمنی تعاون کے تحت سماجی تحفظ کی سہولیات تک عوام کی رسائی بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ وفد میں جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ)، جرمن سفارت خانے، جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون (GIZ) اور کے ایف ڈبلیو ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندگان شامل تھے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے جرمن وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل (این ایس ای آر) ڈاکٹر عاصم اعجاز اور ڈائریکٹر جنرل (سی ٹی) محمد ادریس میاں بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ سماجی تحفظ کا نظام صرف غربت میں کمی اور مالی معاونت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ایسے مؤثر نظام کے طور پر بھی ترقی دی جانی چاہیے جو کمزور طبقات کو معاشی بحرانوں، سیلاب، شدید موسمی حالات اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے، ان کے اثرات کم کرنے اور دوبارہ بحالی میں مدد فراہم کر سکے۔
پاکستان اور جرمنی کے تعاون سے بی آئی ایس پی کے 647 ڈائنامک رجسٹری سینٹرز اور 32 موبائل رجسٹریشن گاڑیوں کے ذریعے ملک بھر میں 3 کروڑ 87 لاکھ افراد کی رجسٹریشن اور کوائف کی تجدید میں مدد فراہم کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت سماجی تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور دور دراز و پسماندہ علاقوں کے عوام تک سہولیات کی رسائی بڑھانے میں اہم سنگِ میل قرار دی گئی۔
بی آئی ایس پی کی قیادت نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان مسلسل تعاون کو سماجی تحفظ کے نظام کی بہتری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، وفاقی اور صوبائی سطح پر رابطہ کاری اور موسمیاتی و معاشی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
جرمن وفد نے پاکستان جرمنی تعاون کے ذریعے سماجی تحفظ کی سہولیات تک رسائی میں ہونے والی پیش رفت اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کو سراہا۔ وفد نے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں اس شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی اور ایک جامع، مؤثر اور پائیدار سماجی تحفظ کے نظام کی تشکیل کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات میں ایس او پی آر اے این (SOPRAN) منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں ڈسبرسمنٹ اینڈ رجسٹریشن سینٹرز (DRCs)، موبائل رجسٹریشن وینز (MRVs)، ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی تربیت (DFLT)، استعداد کار میں اضافہ اور مستقبل کے لیے ہنگامی حالات سے فوری طور پر نمٹنے کے اقدامات شامل تھے۔
اس موقع پر بی آئی ایس پی کے مختلف پروگراموں اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ مستحقین کے ساتھ ایک تعاملی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں ان کے تجربات اور بی آئی ایس پی کی مداخلتوں کے اثرات جاننے کا موقع ملا۔
جرمن وفد میں BMZ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے دوطرفہ تعاون (افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا) کرسٹوف راؤ، سینئر پالیسی افسران اینا فریڈمین اور مینوئل وِنکن باخ، جبکہ ہیڈ آف کوآپریشن ڈاکٹر مریم بیوڈن بینڈر بوخولز شامل تھیں۔
GIZ کی جانب سے ڈائریکٹر ڈویژن ساؤتھ ایشیا ٹلمن ناگل، کنٹری ڈائریکٹر GIZ پاکستان ماریا پوڈے، اے وی/پروجیکٹ ہیڈ ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن یوہانا کنوس، کنٹری منیجر ایلیشیا بیک اور سوشل پروٹیکشن ایڈوائزر ڈاکٹر انعام محمد نے شرکت کی۔
کے ایف ڈبلیو ڈویلپمنٹ بینک کی نمائندگی ڈائریکٹر کلاؤس مولر، سینئر ڈیسک آفیسر شارلٹ وین ڈیر شیف، کنٹری ہیڈ پاکستان اینڈریا گراجکار اور سینئر سیکٹر اسپیشلسٹ مسومہ زیدی نے کی۔
دورے کے اختتام پر بی آئی ایس پی اور جرمن شراکت داروں نے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا کہ سماجی تحفظ کے نظام کو مزید جامع، مؤثر اور موسمیاتی و معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار بنایا جائے گا تاکہ ملک کے کمزور طبقات مستقبل کے بحرانوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

