روبینہ خالد کی لائیو ای کچہری، چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے ادائیگی وصول کی جاسکے گی؛ مفت بینظیر سم صرف بی آئی ایس پی دفاتر سے حاصل کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (الفجر آن لائن) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ خواتین بینیفشریز کو مالی امداد کی ادائیگی مزید محفوظ، شفاف اور آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ اور انٹرآپریبلٹی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق خواتین ملک کے کسی بھی شہر میں چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی رقم وصول کرسکیں گی۔
بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں پروگرام کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے منعقدہ لائیو ای کچہری سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ ڈیجیٹل والٹ کا نظام صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین تک مالی امداد کی فراہمی میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنانا ہے۔
ای کچہری کے دوران ملک بھر سے 25 افراد نے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کرکے اپنے مسائل اور شکایات چیئرپرسن کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والی شکایات کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے اور اس حوالے سے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ انٹرآپریبلٹی نظام کے تحت خواتین بینیفشریز کو کسی ایک شہر یا مخصوص بینک کے ریٹیلر تک محدود نہیں رہنا پڑے گا بلکہ وہ ملک کے کسی بھی شہر میں چھ پارٹنر بینکوں کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی ادائیگی وصول کرسکیں گی۔
ان پارٹنر بینکوں میں ایچ بی ایل (HBL)، حبیب مائیکروفنانس، بینک الفلاح، ٹیلی نار مائیکروفنانس، بینک آف پنجاب اور موبی لنک/جاز بینک شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ادائیگی وصول کرنے کے لیے اصل قومی شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔ خواتین بینیفشریز کو رقم نکلوانے کے لیے مجاز ریٹیلر کے پاس جانے سے پہلے اپنے موبائل فون پر رقم کی منتقلی سے متعلق موصول ہونے والے پیغام کی تصدیق کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ مفت بینظیر سم صرف اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے حاصل کریں۔ سم کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور اپنا ذاتی موبائل فون ساتھ لانا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی فرنچائز، ریٹیلر یا غیر مجاز شخص سے سم حاصل نہ کریں اور نہ ہی اس کی ایکٹیویشن کسی غیر متعلقہ مقام سے کروائیں۔ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی کی مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔
روبینہ خالد نے مزید کہا کہ خواتین سم حاصل کرتے وقت بی آئی ایس پی عملے سے کہیں کہ سم ان کے موبائل فون میں خود نصب کرکے دی جائے تاکہ کسی قسم کی دشواری یا غلط استعمال کا خدشہ نہ رہے۔
ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے چیئرپرسن نے بتایا کہ جب رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہوگی تو متعلقہ بینک کی جانب سے بینظیر سم پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا۔ خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ مجاز بینک ریٹیلر کے پاس جانے سے پہلے اس پیغام کو ضرور چیک کریں۔
ان کے مطابق رقم وصول کرنے کے بعد بینک کی جانب سے ایک دوسرا پیغام بھی موصول ہوگا، جس میں نکلوائی گئی رقم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ خواتین بینیفشریز دونوں پیغامات محفوظ رکھیں تاکہ ادائیگی سے متعلق کسی شکایت کی صورت میں انہیں ریکارڈ کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
چیئرپرسن نے واضح طور پر ہدایت کی کہ رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر، ایجنٹ یا دوسرے غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ان خواتین بینیفشریز کو بھی ہدایت کی جن کے قومی شناختی کارڈز کی مدت ختم ہوچکی ہے کہ وہ فوری طور پر نادرا سے اپنے شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں تاکہ مالی امداد کی وصولی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
بی آئی ایس پی سروے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سروے کا بنیادی مقصد گھرانے کی مالی و معاشی صورتحال کی بنیاد پر اہلیت کا تعین کرنا ہے۔ ایک مرتبہ سروے مکمل ہونے کے بعد دو سال سے پہلے دوبارہ سروے نہیں ہوسکتا، اس لیے خواتین بار بار سروے کروانے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ کرنے سے گریز کریں۔
چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خواتین بینیفشریز کی شکایات کے ازالے اور انہیں ادائیگیوں کے حوالے سے درپیش مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔

