ملک کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی‘ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا، خطاب
اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے آبادی میں تیزی سے اضافے کو پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ انسانوں کے لیے بنایا جاتا ہے اور ملک کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا جبکہ 2050 تک آبادی تقریبا 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ اس وقت 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ملک کو فوری طور پر 66 ہزار نئے پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں 6 کروڑ 50 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا اور تقریبا دو کروڑ نئے گھروں کی ضرورت پوری کرنا ریاست کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کی تقسیم میں آبادی کا حصہ 82 فیصد وزن رکھتا ہے، اس لیے آبادی کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کراچی اور سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ سکھر سے حیدرآباد کے بجائے سکھر تا کراچی موٹروے کی تعمیر زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی حیدرآباد روٹ دراصل موٹروے نہیں بلکہ ایک ایکسپریس وے ہے۔ انہوں نے کراچی کے پانی کے منصوبے کے فور (K-IV) کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ کئی سالوں سے زیر التوا چلا آ رہا ہے
