کئی ماہ سے پیاسے صحرا کی پیاس بجھنے لگی، مقامی آبادی سمیت مویشی پال افراد میں خوشی کی لہر
بہاول پور(الفجرآن لائن)صحرائے چولستان کے وسیع و عریض ریگزاروں پر رحمت کے بادل برس پڑے، جس کے نتیجے میں کئی ماہ سے پیاسے صحرا کی پیاس بجھنے لگی اور مقامی آبادی سمیت مویشی پال افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چولستانی علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث طویل خشک سالی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوگیا ہے جبکہ برسوں سے پانی کے انتظار میں رہنے والے متعدد ٹوبے پانی سے بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قلعہ ڈیراور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں تیز بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گریٹر چولستان کے بیشتر علاقوں میں بھی بادل خوب برسے۔ چولستان کے علاقوں قصائی والا، کُٹانو والا، پھیسر، کنڈی والا، ڈھیڈنی، تھارولا، بجنوٹ،چاپو اور متعدد دیگر ٹوبوں میں موسلا دھار بارش کے باعث صحرائی زمین سیراب ہو گئی۔ بارش کا پانی جمع ہونے سے کئی خشک ٹوبے پانی بھر گئے، جس سے انسانوں اور مویشیوں کے لیے پانی کی دستیابی میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔بارش کے بعد صحرائے چولستان کے ریگزاروں پر خوشگوار موسم چھا گیا، جبکہ مقامی چرواہوں اور مویشی پال افراد نے اس بارش کو اپنے لیے کسی نعمت سے کم قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور پانی کی قلت کے باعث زندگی مشکلات کا شکار تھی، تاہم حالیہ بارشوں نے نہ صرف موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے بلکہ جانوروں کے لیے بھی پانی کے ذخائر بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق چولستان میں ہونے والی بارشیں علاقے کے قدرتی ماحول اور نباتات کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گی۔ بارشوں کے نتیجے میں زیر زمین نمی میں اضافہ ہوگا، جس سے صحرائی پودوں اور گھاس کی افزائش میں مدد ملے گی اور مویشیوں کے لیے قدرتی چارے کی دستیابی بھی بہتر ہو جائے گی۔علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں مزید بارشیں ہوئیں تو صحرائے چولستان میں خشک سالی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا اور یہ بارشیں صحرا میں زندگی کی نئی بہار لے کر آئیں گی
