یونیورسٹی آف بلوچستان کی رینکنگ کو %42 سے بڑھاکر %82 تک پہنچانا ایک قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ یہ نمایاں پیشرفت موثر قیادت، بہتر انتظامی اسٹریٹجی اور معیارِ تعلیم میں مسلسل بہتری کی عکاس ہے لہٰذا ضروری ہے وائس چانسلر اور انکی پوری ٹیم اپنی بھرپور توجہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، غیرضروری اخراجات میں کمی لانے اور مالی ڈسپلن کو مستحکم کرنے پر مرکوز رکھیں۔ یہ واحد یونیورسٹی ہے جس نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت اپنے انتظامی و دفتری نظام کو مکمل طور پر پیپرلیس بنا دیا ہے جو ایک ماحول دوست اقدام ہے۔ چیف جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا کہ بی ایس پروگرام کا آغاز صوبہ کے تعلیمی نظام میں ایک اہم پیشرفت تھی لیکن FA اور BA کی ڈگریوں کے خاتمے سے ان ہزاروں نوجوانوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوچکے ہیں جو مختلف مجبوریوں کے باعث پرائیویٹ امیدوار ہیں

کوئٹہ( الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی رینکنگ اور اسکورنگ کو %42 فیصد سے بڑھا کر %82 فیصد تک پہنچانا ایک غیرمعمولی اور قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ یہ نمایاں پیش رفت موثر قیادت، بہتر انتظامی اسٹریٹجی اور معیارِ تعلیم میں مسلسل بہتری کی عکاس ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور ان کی پوری ٹیم اپنی بھرپور توجہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، غیرضروری اخراجات میں کمی لانے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے 13ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے 13ویں سینیٹ اجلاس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ حسنین، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن جہانزیب مندوخیل، ایڈیشنل سیکرٹری جمیل احمد، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر غلام الرزاق اور رجسٹرار گل کاکڑ سمیت تمام سینیٹ ممبران موجود تھے۔ واضح رہے کہ گورنر بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور صوبائی وزیر تعلیم یونیورسٹی آف بلوچستان کے تقریباً پانچ گھنٹے طویل سینیٹ اجلاس میں آخر تک موجود رہے جو تعلیم دوستی اور اپنے صوبہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے ان کا عزم ہے۔
شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی آمدن میں اضافے کیلئے مختلف انڈسٹریز، فارماسیوٹیکل اداروں، زرعی تحقیقاتی مراکز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ساتھ موثر روابط استوار کریں تاکہ ریسرچ، جدت، روزگار اور مالی وسائل کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں اور یونیورسٹی کو مالی طور پر زیادہ خودمختار بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان صوبہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت اپنے انتظامی و دفتری نظام کو مکمل طور پر پیپرلیس بنا دیا ہے جو وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی اور ان کی پوری ٹیم کے ایک قابلِ تحسین اور ماحول دوست اقدام ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ اب نہ صرف گورنر سیکرٹریٹ بلوچستان کو بھی پیپرلیس بنائیں گے بلکہ پیپرلیس کے اس کامیاب ماڈل کو صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک بھی توسیع دینگے۔ اس نمایاں کامیابی میں کردار ادا کرنے والے یونیورسٹی آف بلوچستان کے ڈائریکٹر آئی ٹی محمد سلال خان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی تعریفی لیٹر سے بھی نوازا جائیگا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس کامران خان ملاخیل نے شرکاء کی توجہ ایک اور اہم بات کی مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بی ایس پروگرام کا آغاز صوبہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک اہم اور جدید پیشرفت تھی لیکن دوسری جانب ایف اے اور بی اے کی ڈگریوں کے خاتمے سے ان ہزاروں غریب نوجوانوں کیلئے پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے کے دروازے بند ہو چکے ہیں جو مختلف معاشی و معاشرتی مجبوریوں کے باعث پرائیویٹ امیدوار کے طور پر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ تعلیم کے مواقع کو جاری رکھا جائے تاکہ ہر مرد عورت کو اپنی استطاعت اور معروضی حالات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن حاصل کرنے کا مساوی مواقع حاصل رہے۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے تیریویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔

