واشنگٹن(الفجرآن لائن)قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے عارضی امن معاہدے کے بعد، امریکہ نے ایران پر عائد اہم اقتصادی پابندیاں معطل کر دی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں مہینوں سے جاری براہِ راست فوجی تصادم کو روکنے کے لیے اس اقدام کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدے پر عمل نہ کیا یا اس کا رویہ درست نہ رہا، تو وہ وہ سب کچھ کریں گے جو انہیں کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، تہران نے ان مذاکرات کے نتیجے میں اہم سفارتی اور اقتصادی مراعات حاصل کی ہیں۔ اس عبوری معاہدے کے تحت ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے گی، جس سے ایران کو بین الاقوامی منڈیوں تک دوبارہ رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو واگزار کیا جائے گا اور ملک کے اندر ترقیاتی و تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
پابندیاں ہٹنے کے باوجود، واگزار ہونے والے فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی جیرڈ کوشنر نے قطر کے ساتھ مل کر ایک ایسا طریقہ کار طے کیا ہے جس کے تحت ان فنڈز کو صرف امریکی زرعی اشیاء، جیسے مکئی، سویا بین اور گندم کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ پیسہ امریکی کسانوں کے فائدے کے لیے استعمال ہوگا، تاہم ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں اور وہ ان فنڈز سے کوئی بھی غیر ممنوعہ سامان خرید سکتے ہیں۔
یہ اہم ترین پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر حالیہ فضائی حملوں اور فروری میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑنے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو نکال دیا تھا۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن قائم کرنے، جنگ بندی کی توثیق اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، جبکہ فنڈز کے تنازع اور دیگر تکنیکی معاملات کو حل کرنے کے لیے فریقین کے درمیان رواں ہفتے بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔
