اسلام آباد(الفجرآن لائن) بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارمان بلوچ نے کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر عسکری تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ریاستی اداروں سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عسکری تنظیموں کے پروپیگنڈے اور جھوٹے وعدوں سے متاثر ہونے کے بجائے قانون کی پاسداری کریں اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ارمان بلوچ کے مطابق وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ روزگار کی تلاش میں ایران گئے تھے، جہاں ان کے بقول انہیں اغوا کرکے پہاڑی علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں ان کی ملاقات کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر قمر بروہی سے ہوئی، جس کے بعد وہ تنظیم کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کے مطابق انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک تنظیم کے ساتھ رہ کر عسکری تربیت حاصل کی اور تمپ و بلیدہ کے علاقوں میں دو حملوں میں حصہ لیا۔
ارمان بلوچ کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہیں احساس ہوا کہ یہ راستہ غلط ہے، تاہم تنظیم چھوڑ کر گھر واپس جانے کی خواہش پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ارمان بلوچ نے کہا کہ وہ آئندہ کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے اور ریاستی اداروں سے معافی کے طلبگار ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ عسکری تنظیموں کے پروپیگنڈے اور جھوٹے دعووں کے جھانسے میں نہ آئیں، اپنے ملک سے وفادار رہیں اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔
بیان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ نوجوانوں کی جانب سے عسکری تنظیموں سے لاتعلقی کے اعلانات ان تنظیموں کے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرنے کی عکاسی کرتے ہیں

