ایران(الفجرآن لائن) ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری انسپکٹرز بمباری کا نشانہ بننے والی ایرانی جوہری سائٹس کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اس قسم کا کوئی بھی شیڈول طے نہیں پایا ہے، اور یہ بیان امریکی حکومت کے دعووں کے بالکل برعکس ہے۔
تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے لیے ان متاثرہ تنصیبات کے معائنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ یہ اعلان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس عوامی بیان کی کھلی تردید ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں آئی اے ای اے کو ان سائٹس تک رسائی دینے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اگرچہ سنہ 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد سے آئی اے ای اے کے حکام ایران میں وقتاً فوقتاً موجود رہے ہیں، لیکن انہیں امریکہ کی جانب سے بمباری کا شکار بننے والے مخصوص یورینیم افزودگی کے ڈھانچے تک رسائی حاصل کرنے سے مسلسل روکا گیا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری معاشی اور سفارتی کشیدگی کو بھی اجاگر کیا اور امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری سے متعلق سوال پر کہا کہ ایران سیاسی توقعات کے بجائے قیمت اور معیار کو ترجیح دے گا۔
