واشنگٹن (ویب ڈیسک) غير ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے اہم ترین بحری راستے میں ایک تجارتی کارگو جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میں ایران کے متعدد فوجی اہداف پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی بحری حدود میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایرانی جارحیت کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک براہ راست اور دفاعی ردعمل ہیں جس کا مقصد خطرات کو کم کرنا ہے، نہ کہ کسی بڑی جنگ کا آغاز کرنا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جمعہ کے روز کی جانے والی ان فضائی کارروائیوں میں ایران کے ان فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا جو بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مراکز سمیت ان ساحلی ریڈار پوزیشنز کو کامیابی سے تباہ کیا جن کے ذریعے تجارتی جہازوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساحلی علاقوں قشم جزیرے، بندر عباس اور جنوبی شہر سیریک کی بندرگاہ کے قریب امریکی بمباری کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔
یہ امریکی فوجی کارروائی اس واقعے کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جب عمان کے ساحل کے ساتھ اقوام متحدہ کے منظور شدہ نئے بحری راستے سے گزرنے والے سنگاپور کے جھنڈے والے کنٹینر جہاز ‘ایم وی ایور لولی’ پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تہران کی جانب سے چار خودکش ڈرون داغے گئے تھے، جن میں سے تین کو امریکی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم چوتھا ڈرون جہاز کے اوپری حصے سے ٹکرا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے برج کو معمولی نقصان پہنچا لیکن خوش قسمتی سے عملے کا کوئی بھی رکن زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔
اس حالیہ فوجی تصادم نے رواں ماہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے نازک معاہدے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکی حکام نے اس بحری حملے کو جنگ بندی کی کھلی اور احمقانہ خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ دوسری طرف تہران حکومت کا اصرار ہے کہ اسے اس سٹریٹجک آبی راستے پر کنٹرول برقرار رکھنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصول کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی بحری تنظیم نے خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل بھی عارضی طور پر معطل کر دیا ہے
