اسلام آباد (الفجرآن لائن): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کا ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، حنیف عباسی، شزا فاطمہ، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ریلویز مسافروں کی آمد و رفت اور مال برداری کے لیے ملک کا سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک جدید اور فعال ریلوے نظام ملکی معیشت، تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز (ہب) بنانے کے لیے ریلوے کے پورے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ریلوے کے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو اعلیٰ معیار کے ساتھ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے مین ریلوے لائن ون (ایم ایل-1) کے روہڑی تا ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے فوری طور پر جامع تجاویز پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
اجلاس کے دوران اہم منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ایم ایل-1 کے کراچی تا روہڑی سیکشن کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ ایم ایل-3 (روہڑی تا نوکنڈی) کی اپ گریڈیشن پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور برج فنانسنگ کے تحت کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کے تحت تھر کول سے چھور ریلوے اسٹیشن تک 112 کلومیٹر طویل ٹریک کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔
ریلوے میں انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ مزید برآں، ریلوے کے ماتحت چلنے والے اسکولوں اور ہسپتالوں کی سروسز کو کامیابی سے آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جبکہ محکمے کی آمدنی میں اضافے کے لیے ملک کے چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن پر بھی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔

