سندھ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے تین تین ایڈیشنل ججوں کی سفارش،سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کی منظوری
اسلام آباد(الفجرآن لائن)جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے لیے اہم تقرریوں اور توسیع کے فیصلے کر لیے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ کی کانفرنس روم میں ہونے والا اجلاس 20 جولائی پیر 2026 کو دوپہر 2 بجے سے شام 5:30 بجے تک جاری رہا۔کمیشن نے اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی سفارش کر دی۔ یہ سفارش متعلقہ ڈیٹا فارمز، ماضی کے ریکارڈ اور پیش کردہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کی توسیع کی سفارش نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں بھی 3 ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں 5 ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لیے کمیشن نے 3 ناموں کی سفارش کی۔ کل رکنیت کی کمی کے باعث 2 نشستیں خالی رہ گئیں۔ سفارش کردہ ناموں میں محمد ہمایوں خان، ایڈوکیٹ، سریش کمار، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ، ڈاکٹر شاہ نواز میمن، ایڈوکیٹ شامل ہیں۔اعلامیے کے مطابق کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 3 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی۔ ان میں ایاز شوکت، ایڈووکیٹ،شاہ رخ ارجمند، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اورعمیر مجید ملک، ایڈوکیٹ شامل ہیں۔کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی بطور جج تصدیق کی سفارش کی۔ یہ سفارش بھی متعلقہ ریکارڈ اور مواد کے جائزے کے بعد کی گئی۔ تصدیق کے لیے سفارش کردہ ججزمیں جسٹس محترمہ فرح جمشید،جسٹس انعام اللہ خان،جسٹس ثابت اللہ خان اورجسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔جوڈیشل کمیشن کی ان سفارشات کو اب آئینی تقاضوں کے تحت پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔

