واشنگٹن/تہران ( ویب ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا "کئی گنا زیادہ” بدلہ لینے کے سخت اعلان کے بعد، امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی فضائی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے مسلسل دسویں رات بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ () کے مطابق تازہ ترین فضائی حملوں کا بنیادی مقصد ایرانی فوجی تنصیبات اور مواصلاتی نظام کو تباہ کرنا ہے تاکہ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کو روکا جا سکے۔
حالیہ فضائی حملوں کے دوران ایران کے متعدد ساحلی اور اندرونی شہروں بشمول تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر عباس اور بندر ماہشہر میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ اطلاعات کے مطابق بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب ایران کا فضائی دفاعی نظام بھی سرگرم دیکھا گیا۔ دوسری جانب پینٹاگون نے اردن میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں میں سے دو کی شناخت فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فہان اور پرائیویٹ ازابیلا گونزالیس کے نام سے کی ہے، جس کے بعد اس تنازع میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں کئی اعلیٰ ایرانی فوجی حکام مارے گئے اور نو بحری جہاز ڈبو دیے گئے ہیں، تاہم تاحال ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس سنگین صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان جاری کیا ہے کہ ایران اب امریکہ کے ساتھ "بھرپور جنگ” کی حالت میں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں۔ اس تنازع کے اثرات پڑوسی ممالک تک پھیل چکے ہیں؛ اردن کی فوج نے پیر کی رات تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت نے ڈرونز کو فضا میں ہی روکا اور بحرین نے اپنے فضائی نیویگیشن سسٹم میں مداخلت کی شکایت کی ہے۔ مزید برآں، یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے

