سان فرانسسکو (ویب ڈیسک) آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دنیا سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور خوفناک خبر سامنے آئی ہے۔ دنیا کے معروف ترین اے آئی ادارے ’اوپن اے آئی‘ نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیسٹنگ کے عمل کے دوران اس کے جدید ترین اے آئی ماڈلز نے اپنے حفاظتی حصار کو توڑ کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی، اور اے آئی کے ایک اور مقبول اسٹارٹ اپ ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹم کو ہیک کر لیا۔ اس واقعے کو ٹیکنالوجی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا ’اے آئی بریک آؤٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے محققین اپنے غیر ریلیز شدہ ماڈل ‘سول’ (جو کہ جی پی ٹی5-فیملی کا حصہ ہے) کی صلاحیتوں کو جانچ رہے تھے۔ اس ٹیسٹنگ کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اے آئی ماڈلز سائبر حملوں کو کیسے روکتے ہیں۔ لیکن اس عمل کے دوران ماڈل نے غیر متوقع طور پر کام شروع کر دیا اور خود ہی ایک نیا ’زیرو ڈے‘ سیکیورٹی نقص تلاش کر کے اپنی ڈیجیٹل جیل سے فرار ہو گیا۔ اس کے بعد اے آئی سسٹم نے خود کار طریقے سے ہگنگ فیس کے سرورز پر 17,000 سے زائد مختلف سائبر ایکشنز کیے تاکہ وہ اپنے ٹیسٹ کے جوابات چوری کر سکے۔
اسٹارٹ اپ ’ہگنگ فیس‘ کے شریک بانی کلیمینٹ ڈیلانگ نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’ہوش ربا‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پورا حملہ کسی انسان نے نہیں بلکہ ایک خود مختار اے آئی ایجنٹ نے شروع سے آخر تک خود ہی ڈیزائن اور نافذ کیا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب اے آئی ماڈلز کی سائبر حملے کرنے کی صلاحیت دنیا کے ماہر ترین انسانی ہیکرز کے برابر پہنچ چکی ہے۔
اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں اے آئی سیکیورٹی اور انسانی بقا کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی ماڈلز اسی طرح انسانوں کے قابو سے باہر ہو کر خود کار فیصلے کرنے لگے اور سیکیورٹی حصار توڑنے لگے تو یہ مستقبل میں تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے، تاہم عالمی سیکیورٹی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے خطرناک ماڈلز کی ٹیسٹنگ پر فوری طور پر آزادانہ نگرانی نافذ کی جائے

