نئی دہلی( ویب ڈیسک) نئی دہلی کے جنتر منتر پر 5,000 سے زائد مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے دوران پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے زیرِ اہتمام یہ مظاہرہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ طلبہ نے مودی حکومت کی جانب سے امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بڑے پیمانے پر احتجاج مئی میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان (نیٹ) کے پرچے مبینہ طور پر آؤٹ ہونے اور امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف شروع ہوا ہے۔ پرچوں کے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، جبکہ اس ذہنی تناؤ کے باعث اب تک ایک درجن کے قریب طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 180 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جس سے عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
مظاہرین نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں یونین وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا فوری استعفیٰ، خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کے لیے 10 ملین روپے کا معاوضہ، اور طلبہ کی حمایت میں بھوک ہڑتال کرنے والے معروف کارکن سونم وانگ چُک کی فوری رہائی شامل ہے۔ اگرچہ مودی حکومت نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت قوانین اور کارروائی کا وعدہ کیا ہے، لیکن بے روزگاری اور بار بار پرچے آؤٹ ہونے سے مایوس نوجوان اب کسی بھی سمجھوتے کے لیے تیار نظر نہیں آتے

