گاڑی مالکان، سرکاری ملازمین، پینشنرز، مردوں اور نااہل افراد کو بھی پروگرام کے تحت کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں
،رپورٹآڈٹ رپورٹ کے مطابق 1,719 گاڑی مالکان کو 6 کروڑ 97 لاکھ 44 ہزار روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں
اسلام آباد(الفجرآن لائن)مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گاڑی مالکان، سرکاری ملازمین، پینشنرز، مردوں اور نااہل افراد کو بھی پروگرام کے تحت کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
جبکہ تعلیمی وظائف، اسکالرشپس اور فنڈز کی منتقلی میں بھی متعدد سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 1,719 گاڑی مالکان کو 6 کروڑ 97 لاکھ 44 ہزار روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔
حالانکہ وفاقی کابینہ نے گاڑی رکھنے والے افراد کو پروگرام کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی بورڈ نے کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بجائے گاڑی رکھنے کی نااہلی کی شرط ہی ختم کر دی۔
رپورٹ کے مطابق 12 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین، ان کی بیویوں اور پینشنرز کو مجموعی طور پر 51 کروڑ 57 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔
ان میں گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین، گریڈ 17 تا 20 کے افسران، ان کی بیویاں اور پینشنرز شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان بیت المال اور بی آئی ایس پی کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ نہ ہونے کے باعث 1 کروڑ 76 لاکھ 90 ہزار روپے کے ڈپلیکیٹ تعلیمی وظائف جاری ہوئے۔
جبکہ 165 چائلڈ لیبر اسکولز دونوں اداروں سے فنڈز حاصل کرتے مزید یہ کہ 278 سرکاری ملازمین بھی تعلیمی وظائف میں طالب علم کے طور پر رجسٹرڈ پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق شوہر کے قومی شناختی کارڈ سے متعلق ریکارڈ میں خامیوں کے باعث 25 ارب 69 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز متاثر ہوئے۔
5 لاکھ 96 ہزار سے زائد خواتین کو شوہر کے شناختی کارڈ کے بغیر 25 ارب 45 کروڑ 99 لاکھ 60 ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
جبکہ ایک ہی شناختی کارڈ پر سات مختلف خواتین کو وظائف جاری ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمپیوٹر سسٹم کی خرابی کے باعث 18 ہزار نااہل افراد کو 53 کروڑ روپے غلط طور پر تقسیم کیے گئے۔
سات ہزار غیر شادی شدہ خواتین کو شادی شدہ ظاہر کرکے 10 کروڑ 47 لاکھ روپے دیے گئے۔
جبکہ 450 سے زائد مردوں کو خواتین ظاہر کرکے 76 لاکھ 41 ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
تعلیمی وظائف کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ مقررہ عمر سے زائد 13 ہزار 898 طلبہ کو 6 کروڑ 98 لاکھ 59 ہزار روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ کے پاس 2018 سے بی آئی ایس پی کی 97 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم غیر تقسیم شدہ پڑی ہے۔
جبکہ پانچ جامعات کے اکاؤنٹس سے بی آئی ایس پی انڈرگریجویٹ اسکالرشپ پروگرام کے 13 کروڑ 4 لاکھ روپے نامعلوم اکاؤنٹس میں منتقل ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ میں متعلقہ اداروں کو مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور رقوم کی فوری وصولی کے لیے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

