کوئٹہ( الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ اور اسکے مضافات میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ، پانی کی قلت، صفائی کی ابتر صورتحال اور خاصکر منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ فوری اور مربوط اقدامات کے متقاضی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کے مضافاتی علاقوں کے تواتر ساتھ دورے کریں کیونکہ گڈ گورننس کا آغاز ہی عام شہریوں کی آواز سننے سے ہوتا ہے۔ کوئٹہ محض ایک شہر نہیں ہے بلکہ یہ پورے صوبے کا انتظامی، سیاسی، تعلیمی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ کوئٹہ کے مسائل کا حل کئی حوالوں سے آدھے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ کے مضافات میں اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہمارے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ہر گھر کو پینے کے صاف پانی کی غیرضروری مشکلات کے بغیر رسائی یقینی بنائیں۔ اسی طرح بجلی کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ شہریوں، تاجروں، طلبائ اور چھوٹے کاروباریوں کیلئے مایوسی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام جب بھی بحالی یا ناگزیر بندش واقع ہو تو بروقت معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صاف ستھرا شہر ذمہ دارانہ طرزحکمرانی اور صحتمند معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ ماحولیاتی صفائی کا براہ راست تعلق عوامی صحت اور شہری زندگی کے معیار سے ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ منشیات کی لت معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اس خطرے سے بچانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی. کوئٹہ کی تاریخی خوبصورتی، صفائی، امن اور وقار کو بحال کرنا محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی مشن ہے جس میں حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور ہر ذمہ دار شہری کا تعاون درکار ہے۔

