اسٹیٹ بینک سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کے باعث برطانیہ، چین، امریکا سمیت مختلف ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں فعال رہے،
اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے
ماحول میں بہتری کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی جانب سے منافع اور ڈیویڈنڈ کی مد میں مجموعی طور پر 2.31 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے۔
جو ملک میں جاری کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے تسلسل اور منافع کی آزادانہ منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق صرف جون 2026 میں غیر ملکی کمپنیوں نے 151.4 ملین ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالیاتی شعبہ، توانائی، فوڈ، کمیونیکیشنز اور تمباکو کے شعبے منافع کی منتقلی میں نمایاں رہے۔ مالیاتی شعبے سے 534.5 ملین ڈالر جبکہ پاور سیکٹر سے 507.7 ملین ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
جو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے حجم اور کاروباری سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ملکی سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کے باعث برطانیہ،
چین، امریکا سمیت مختلف ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں فعال رہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق سب سے زیادہ منافع برطانیہ کو 621.2 ملین ڈالر جبکہ چین کو 486.5 ملین ڈالر منتقل کیا گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی منتقلی اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں۔
اور انہیں بین الاقوامی ضوابط کے مطابق اپنے منافع کی واپسی کی سہولت بھی حاصل ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

